اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 264
واذا سمعوا ٧ ۲۶۴ المايدة۔لَّا أُعَذِّبُةَ أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ ہے ویسا عذاب کسی کو نہ دوں گا۔وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اَنْتَ ۱۱۷۔اور جب کہا اللہ نے اے مریم کے بیٹے ءَ عیسی ! کیا تو نے ہی کہا تھا لوگوں سے کہ مجھ کو اور قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ الْهَيْنِ میری ماں کو اللہ کے سوا اور دو معبود سمجھنا۔عیسی مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ نے عرض کی آپ کی ذات پاک ہے یہ مجھے کہاں لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ إِنْ لا سزاوار ہے کہ میں ایسی بات کہوں جس بات کے کہنے کا مجھے کچھ بھی حق نہیں اگر وہ میں نے کہی كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي ہو تو تجھے معلوم ہی ہو گا۔میرے جی کا حال تو نَفْسِى وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ تجھے بخوبی معلوم ہے اور میں نہیں جانتا کہ آپ کیا چاہتے ہیں (اس سوال سے ) ہاں ہاں تیری ہی ذات پاک بڑی غیبوں کی جاننے والی ہے۔اَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا اَمَرْتَنِي بِهِ آنِ ۱۱۸۔میں نے ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر وہی جو اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنْتُ تو نے مجھ کو حکم دیا تھا کہ تم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا وہی رب عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۚ فَلَمَّا ہے اور میں اُن کا نگران رہا جب تک میں اُن تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ میں زندہ رہا پھر جب تو نے مجھے مار ڈالا اور (بقیہ حاشیہ ) نصاری کو فراخ روزی عطا فرمائی ہے۔آیت نمبر 114 - لا أعَذِّبُةٌ اَحَدًا - ناشکری و تکبر و شیخی کا نتیجہ سخت عذاب ہو گا۔یہ ایک پیشگوئی ہے جو یورپ کو اپنے وقت پر تماشا دکھائے گی کیونکہ وَاخِرِنَا پادری و نصاری مذکورہ بیان کے مصداق ہیں۔آیت نمبر ۱۷۔وَاِذْ قَالَ الله۔میں واؤ وَاصِلہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبارت سابقہ کے وقت ارشاد ہوا۔قصہ مائدہ۔سورۃ کا خاتمہ اس رکوع پر یہ مضمون بتاتا ہے کہ روح القدس والے آتے ہیں۔ان کی زندگی بچپن سے اخیر تک طیبہ ہوتی ہے وہ گویا بہ ہدایت ہوتے ہیں اور علم و حکمت و اسرار کتب الہیہ مبشرات اللہ سے سیکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ان کی سخت مخالفت ہوتی ہے۔ان کی صحبت مردہ زندگی کو حیات بخش ہوتی ہے۔وہ بینات لاتے ہیں جو سِحرِ مُبین کہلاتے ہیں اور آسمانی دستر خوان بچھاتے ہیں جس سے قوم کچھ فائدہ اٹھاتی ہے پھر مشرک ہو جاتی ہے۔بزرگوں کی پوجا شروع کر دیتی ہے جس کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔وہ صادق ہوتے ہیں اللہ کی خوشنودی کا سرٹیفکیٹ ان کو حاصل ہوتا ہے جس کا نتیجہ دائمی بہشت و کامل کامیابی ہے۔