اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 262 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 262

واذا سمعوا ٧ ۲۶۲ المايدة۔تَخْلُقُ مِنَ الطَّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِی خاکسار مٹی سے پرندہ کے روپ میں میرے حکم سے پھر اس میں پھونکتا تھا تو وہ ہو جاتی تھی ایک پرند میرے حکم سے اور تو بری کرتا تھا مادر زاد فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِئُ الْأَكْمَة وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اور جب تو الْمَوْتَى بِإِذْنِي وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي مُردہ کافر کو زندہ مومن بنا تا تھا میرے حکم سے اور ۚ إسْرَاعِيلَ عَنْكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ جب میں نے روکا بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو اُن کے پاس کھلے کھلے نشان لے کر آیا تو کہنے فَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُ وا مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلَّا لگے کا فراُن میں کے کہ یہ تو دل ربا با تیں کھلم کھلا قطع تعلق کرانے والی ہیں۔د الله د سحر مبين ) وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيْنَ اَنْ أُمِنُوا ني ۱۱۲۔اور جب میں نے حواریوں کے طرف وحی وَبِرَسُوْلِى قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدُ بِأَنَّنَا کی کہ مجھے مانو اور میرے رسول کو تو انہوں نے عرض کی ہم نے مانا اور آپ گواہ رہیے کہ ہم مُسْلِمُونَ ) فدائی فرمانبردار ہیں۔(بقیہ حاشیہ) تَخلُق۔خلق بمعنی تجویز ہے اور عام محاورہ عرب بھی ہے کہ فُلَانٌ يَخْلُقُ وَيَفْرِی۔مِنَ الطين - طين سے یہاں مراد مادہ انسانی و خاکساری بھی ہے جیسا کہ شیطان کا قول ہے کہ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ (الاعراف: ۱۳)۔كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ طَيُرے سالک بلند پرواز مراد ہے جیسے جعفر طیار۔وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ - چونکہ توریت میں ابرص وغیرہ نا پاک سمجھے جاتے تھے تو عیسی علیہ السلام ایسے عیب سے اُن کو بُری فرماتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ روحانی اندھوں اور جذامیوں کو بھی پاک و صاف کرتے تھے۔وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتِى بِإِذْنِی۔یعنی بد سے نیک، غافل سے خدا پرست بنانا۔قرآن شریف میں ہے اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمُ (الانفال: ۲۵) فَلَنُحْيِيَنَّهُ حيوةً طَيْبَةً (النحل:۹۸) - اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ (الانعام: ۱۲۳) وغیرہ آیات۔اسی طرح انجیل و تورات میں ہے دیکھو لوقا باب ۱۰ آیت ۲۷ اور رومیوں کا خط باب ۶ آیت ۱۰۔