اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 259 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 259

واذا سمعوا ٧ ۲۵۹ المايدة۔وَصِيْلَةٍ وَلَا حَامٍ وَلَكِنَّ الَّذِيْنَ وصلہ نہ حام لیکن کا فر اللہ پر افترا ہی کرتے ہیں جھوٹا اور وہ اکثر بے عقل ہی ہیں۔كَفَرُوْا يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوا إلى مَا اَنْزَلَ الله ۱۰۵۔اور جب ان سے کہا جاتا ہے آؤ اس کلام وَإِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا کی طرف جو اللہ نے اتارا اور رسول کی طرف تو عَلَيْهِ أَبَا ءَنَا اَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمُ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمیں تو بس وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ داداؤں کو پایا۔بھلا لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ اگر ان کے باپ دادا کچھ نہ جانتے ہوں اور نہ وہ 2 * ہدایت یافتہ ہی ہوں۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ۱۰۶۔اے ایماندارو! تم اپنے نفس کی فکر کرو لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا وہ جو کوئی گمراہ ہوا b ے۔کیا جب بھی ان کی ہی پیروی کرو گے یا چال چلو گے۔(بقیہ حاشیہ) کے سلامت واپس آنے کی نیت سے چھوڑتے۔وَصِيلة وہ بکری جس کی سات پشت ہو چکی ہوں۔ساتویں پشت میں اگر مادہ جنے تو ملا لیتے نہ ہو تو ذبح کر کے کھالیتے۔دونوں ہوتے تو زندہ رکھتے تھے کہ بہن نے بچا دیا ہے۔حام وہ نر اونٹ جس کا پوتا سواری کے قابل ہو جاتا اور دادا چھوڑ دیا جاتا یا دس پشت والا ہوتا تو چھوڑتے۔مرتا تو مُردہ اونٹ کو مرد اور عورت کھا لیتے (ایضاً) روایت دیگر بحيرة جس کا دودھ جوں کے لئے وقف کیا جائے۔سَائِبَة سانڈ۔وَصِيلَة جو بکری نر کے ساتھ مل کر پیدا ہو اور حام جس کی نسل سے دس اونٹ بن چکے ہیں۔آیت نمبر ۱۰۶- عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ۔اس کو مسند احمد بن حنبل کی حدیث حل کرتی ہے۔"إِذَا رَأَيْتَ شُعا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا۔۔۔وَإِعْجَابَ كُلّ ذِى رَأْي بِرَأْيِهِ۔فَعَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ ( مسند احمد بن حنبل، مسند ابی بکر) ترجمہ: جب تو دیکھے کہ حرص کی مانی جاتی اور خواہش کی پیروی اور ہر ایک اپنے خیال کو پسند کرتے ہیں ایسے وقت میں اپنی ہی جان کی اصلاح کی فکر کرو۔کسی کا گمراہ ہونا تمہیں ضرر نہ دے گا۔(۲) مسلم کی شرح بغوی میں ہے تم اپنی فکر کر لو۔یعنی آمـر بـالـمـعـروف ونَهى عَنِ المنکر کرتے رہو پھر کسی کا بگڑ نا تمہیں نقصان نہیں دے گا۔إِذَا اهْتَدَيْتُم کسی کے لئے پچھتانا۔غم کھانا بے سود ، مقدم خود کی اصلاح ہے جو امر بالمعروف