اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 257
واذا سمعوا ٧ ۲۵۷ المايدة۔b عَدْلُ ذلِكَ صِيَا مَا لِيَذُوقَ وَبَالَ اَمْرِم کھانا کھلانا یا مسکینوں کی گنتی کے برابر روزے عَفَا اللهُ عَمَّا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ رکھے تاکہ چکھے اپنے کئے کی سزا۔اللہ نے تم سے معاف کیا جو آگے ہو چکا اور جو پھر ایسا الله مِنْهُ وَاللهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ) کرے گا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ زبر دست بدلہ لینے والا ہے۔أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا ۹۷ - تمہارے لئے دریائی شکار حلال کیا گیا اور دریائی کھانے کی چیزیں تمہارے لئے اور لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ مسافروں کے فائدے کے لئے (جائز کی گئیں) الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمَا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِى اور جنگل کا شکارتم پر حرام کیا گیا جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔اور اللہ ہی کو سپر بناؤ وہ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ اللہ جس کی طرف تم سب اکٹھے ہو کر چلو گے۔جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ٩٨۔اللہ نے قرار دیا کعبہ کو جو معزز گھر ہے قِيمًا لِلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ لوگوں کے قیام کا سبب اور بزرگی والے مہینے اور قربانی اور بیٹے دار نیاز کے جانور اللہ نے کیوں وَالْقَلَابِدَ ذلِكَ لِتَعْلَمُوا اَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ قرار دئے تا کہ تم جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاَنَّ اللهَ آسمانوں میں ہے اور زمین میں اور بے شک اللہ ہر ایک چیز کا بخوبی جاننے والا ہے۔بِكُلِّ شَيْ ءٍ عَلِيمٌ اِعْلَمُوا اَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ ۹۹۔اور جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے اور یہ کہ اللہ بڑا ڈھانپنے والا سچی محنت کا بدلہ دینے والا ہے۔اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ آیت نمبر ۹۸ - قِمَا لِلنَّاسِ۔ایک تو امن کی وجہ سے دوسرے ذبح کی وجہ سے یہ تو ظاہری نظائر ہیں دوسرے باطنی کے بڑے بڑے انقلاب دنیا کی سلطنتوں اور معابد میں آئے۔سلیمانی ہیکل اور بیت المقدس اور بیت حمراء وغیرہ تباہ اور ویران ہوئے۔عراق میں آذر کا آتش کدہ یورپ میں پیپٹی کا معبد نہ رہا۔مصر میں بَيْتُ الشمس نہ رہا۔ایران کے گل آتش کدے ٹھنڈے ہو گئے۔ہندوستان کا سومنات وغیرہ غارت ہوا۔یونان کا ٹیرا مون غارت ہوا مگر ایک کعبہ کہ جب سے بنا ہے اُسی شان اور عزت سے چلا آ رہا ہے کیونکہ اُس کا وجود اللہ کے عالم الغیب ہونے کی بڑی دلیل ہے کہ باوجود تبدیل قوانین وسلاطین کے یہ معزز و مکرم ہوگا۔