اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 256 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 256

واذا سمعوا ٧ ۲۵۶ المايدة۔اور احسان کیا یعنی اللہ کو دیکھا ، اور اللہ دوست رکھتا ہے محسنوں کو۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللهُ بِشَيْءٍ ۹۵ - اے ایماندارو! اللہ تم کو ضرور آزمائے گا ذرہ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُه أَيْدِيكُمْ وَ رِمَا حُكُمْ شکار سے جس کو تمہارے ہاتھ پہنچ سکیں اور تمہارے بھالے تا کہ اللہ تم کو معلوم کرے کہ کون اُس سے تنہائی میں ڈرتا ہے پھر جو زیادتی کرے اس کے لِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ بعد تو اس کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ ۹۶۔اے ایماندارو! تم شکار نہ کرو جب تم احرام باندھے ہو، اور تم میں کوئی جان بوجھ کر شکار وَاَنْتُمْ حُرُم وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ کرے تو اس پر بدلہ ہے نادان چارپایوں میں متَعَمِّدًا فَجَزَاءِ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ b سے مارے ہوئے کے برابر، قوم میں سے يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيَّا بَلغَ صاحب عدالت دو شخص ٹھہراویں ( قیمت ) نیاز الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسكِيْنَ اَوْ کعبہ تک پہنچائی جاوے یا بدلہ ہے چند مسکینوں کو آیت نمر ۹۵ - مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ - یعنی حالت احرام اور حرم میں شکار منع کیا گیا ہے۔مقاتل ابنِ حیان سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے سال چرند و پرند صحابہ کے ڈیروں میں گھس آئے تھے اس لئے دلی تقویٰ کا ارشاد ہوا۔تنہائی میں بھی اطاعت الہی کا دھیان رہے۔آیت نمبر ۹۶ - لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُم - امن عام کی غرض سے بحالت احرام شکار منع کیا گیا ہے۔اس میں موذی جانور سانپ ، بچھو، دیوانہ کتا اور چیل کو اشامل نہیں اور دریائی شکار بھی مستثنیٰ۔وَاَنْتُمْ۔ہے۔حرم۔۔یا احرام میں داخل ہوں۔قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا - شکار دو قسم کے ہیں ہاتھ سے پکڑا تو ذبح کرنا چاہئے۔ہتھیار سے مارا بسم اللہ کہہ کر تو ذبح کی ضرورت نہیں۔مگر حالت احرام میں دونوں منع ہیں۔موذی جانور کو مارنا درست ہے۔ذَوَا عَدْلٍ۔امانت دار۔عقل والے۔يَحْكُمُ بِه - تین قسم کی سزاؤں میں سے ایک سزا برداشت کریں یعنی دو منصف جو کہہ دیں کہ یہ جانور اتنی قیمت کا تھا اتنا دے دیں یا کھانا کھلائیں یا روزے رکھیں جس نے احرام میں شکار کیا ہو۔