اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 255
واذا سمعوا ٧ ۲۵۵ المايدة۔الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَيْرِ وَالْمَيْسِرِ میں دشمنی اور عداوت ڈال دے شراب و جوئے وَيَصُدَّكُمُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلوة سے اور تم کو روک دے اللہ کی یاداور دعا اور نماز سے تو کیا تم باز آؤ گے؟ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ ۹۳۔اور اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا اور وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا حرام اور منع کی ہوئی چیزوں سے ڈرو، بچ جاؤ۔پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے المَا عَلى رَسُوا البلع المين رسول کا کام تو اتنا ہی ہے کہ وہ بخوبی واضح کر کے پہنچا دے۔لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ ۹۴۔کچھ گناہ نہیں ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور وہ پہلے جو کھا چکے بشرطیکہ جُنَاحَ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَأَمَنُوا انہوں نے (اب) اللہ کو سپر بنایا اور (شرک وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَامَنُوْا ثُمَّ سے بچے ) اور اُسے مانا اور بھلے کام کئے پھر اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ اسے سپر بنایا ( شراب سے بچے) اور مانا پھر اس کا خوف رکھا ( حرام منع کی ہوئی چیزوں سے ) (بقيه حاشيه) فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ - حکیم الامت مولانا الاعظم خلیفة المسیح حضرت مولوی نورالدین صاحب فرماتے ہیں کہ طالب علمی کے زمانہ میں حرمت شراب کی طبقی دلیل یہ ملی کہ شراب سے گل قومی جوش میں آ جاتے ہیں اور دنیا میں سب کے استعمال کا موقع نہیں ہے لہذا دنیا میں اس کی حرمت ہی مناسب ہے۔نیازمند نے قرآن مجید میں کہیں بھی خمر کی حلت نہیں پڑھی اور نہ کسی مقام میں اس کا جواز دیکھا ہاں شربت الگ چیز ہے اور محبت عشق کی خمر الگ ہے۔جس کی تعریف ہے لَا فِيهَا غَوْلُ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَقُونَ (الصافات: ۴۸) یعنی وہ اعلیٰ درجہ کے پینے کے شربت ہوں گے جو مَا خَامَرَ الْعَقْل کے خلاف ہیں اور وہ خَمر نہیں جس کا ذکر يَسْلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ (البقرة: (۲۲۰) میں ہے۔بلکہ شَرَابًا طَهُورًا وغیرہ ہیں اور جز ء۲۶ رکوع ۶ میں جو انھر مِنْ خَمْرٍ نَذَةِ لِلشْرِبین (محمد: ۱۶) ہے تو وہاں خَمرِ مَا خَامَرَ العَقُوْلَ وَالنَّزْفَ وَ الصَّدْعَ بَلْ هُوَ لَذَّةٌ لِّلشَّارِبِينَ مراد و مبيِّن ہے۔آیت نمبر ۹۴ - وَ اَحْسَنُوا۔تین تقوے۔پہلا گناہ کے بعد اختیار شریعت ہے۔دوسرے اختیار استقامت۔و ادامت طریقہ ہے۔تیسرے اختیار حقیقت ہے۔بلا غرض بطور اخلاق فاضلہ جس کو حدیث میں احسان کہتے ہیں۔