اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 245 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 245

لا يحب الله ٦ ۲۴۵ المايدة۔آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ رسول اور وہ ایمان دار جو نماز کو ٹھیک درست رکھتے ہیں اور زکوۃ دیا کرتے ہیں اور جھکنے والی الزَّكُوةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ جماعت کے ساتھ جھکتے ہیں۔وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۵۷۔اور جو اللہ اور اس کے رسول سے دوستی کرے گا اور ایمان داروں سے (تو وہ اللہ کا دوست فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغُلِبُونَ ہے ) اور اللہ ہی کی جماعت غالب ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ ۵۸- اے ایماندارو! تم دوست نہ بناؤ ان کو اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَ لَعِبَّا مِنَ الَّذِينَ جنہوں نے تمہارے دین کو ٹھہرایا ہے ہنسی اور ٹھٹھا ( اور بے حقیقت) فرضی چیز پڑھے لکھے أوتُوا الكتبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی جو تم سے پہلے أَوْلِيَاء وَاتَّقُوا اللهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ہیں اور سب کافروں کو ( بھی ) دلی دوست نہ بناؤ اور اُسی کا خوف رکھو جب تم ایماندار ہو۔وَإِذَا نَادَيْتُمُ إِلَى الصَّلوةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا ۵۹۔اور جب تم اذان دیتے ہو اور نماز کے لئے ولَعِبًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ پکارتے ہو تو وہ اذان کو ٹھٹھا اور بے حقیقت چیز بناتے ہیں کیونکہ وہ قوم بالکل بے عقل ہے۔قُلْ يَاهْلَ الْكِتُبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّا إِلَّا ٢٠ تم کہہ دو اے اہلِ کتاب! تم ہم میں کیا أَنْ أَمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عیب پاتے ہو بس یہی کہ ہم نے مانا ہے اللہ کو اور اس کلام کو جو ہم پر اترا اور جو ہم سے پہلے مِنْ قَبْلُ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فَسِقُونَ ا تارا گیا اور تم تو اکثر نا فرمان ہی ہو۔قُلْ هَلْ أَنتُكُمْ بِشَرِ مِنْ ذَلِكَ مَثْوْبَةً ۶۱ - بھلا میں تم کو بتا دوں اُن ( فرضی) عیب والوں آیت نمبر ۵۸ - اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا - انگریزی خوان على العموم، وحدت الوجود والے فقرا ء اکثر تکیہ نشین اور دائرہ والے فقیروں نے علی الخصوص دین کو ٹھٹھا بنا دیا ہے۔ایک دنیا کے بڑے رکن نے کہا کہ بہشت کے ایک پھوس کا ٹکڑا ہی بس ہے۔حضرت مولانا الاعظم مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مستعار مقام میں تو بڑی بڑی کوٹھیاں مدر سے بنواتے ہو۔یعنی سپنجی سرائے میں حد درجہ کی کوششیں اور مقام دائگی کے لئے کچھ بھی نہیں۔یہ بڑی بے حیائی اور نفاق و بداعتقادی کی بات ہے۔