اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 241 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 241

لا يحب الله ٦ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ ۲۴۱ المايدة ه اُس کے قبل تھی اور راہ نمائی اور نصیحت تھی متقیوں کے لئے۔وَليَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ الله ۳۸۔چاہئے کہ انجیل والے حکم کریں ساتھ اس فِيهِ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ کے جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے اس میں اور جو اللہ کے اتارے ہوئے کے موافق حکم نہ دے تو آیت نمبر ۴۸ - وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ - یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں اہل بشارت یعنی خصوصاً نصاریٰ اور عموماً دیگر اہلِ بشارت۔کیونکہ انجیل کے معنی بشارت ہیں اور قرآن بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُةَ أَحْمَدُ (الصف:-) - وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ - نصاری کا یہ خیال اور اعتراض باطل ہے کہ قرآن مجید نے توریت و انجیل کو منسوخ کر دیا اور حال یہ ہے کہ تمام قرآن میں اس کا کہیں ذکر نہیں بلکہ یہ ذکر ہے کہ قرآن کتب سابقہ کا مصدق ہے ہاں قرآن میں القاء شیطانی کی نسبت تنسیخ آئی ہے جیسے بائیسویں سورۃ کی ترین آیت۔ہاں قرآن شریف میں اکمال اور اتمام کا لفظ آتا ہے جس سے نسخ وغیرہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ موقع اور وقت اور قابلیت کی شرط پائی جاتی ہے اور یہ بھی بیان ہے کہ فِيْهَا كُتُبُ قَيَّمَةٌ اس حیثیت سے اپنے گھر کی جامع کتاب کو چھوڑ کر دوسری مختص المقام والوقت کتاب کو ڈھونڈتے پھریں ضرورت نہیں بلکہ سید المرسلین نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ایک پر چہ توریت کو پڑھتے ہوئے دیکھ کر اظہار نا خوشی فرمایا حالانکہ حضور علیہ السلام اور تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُم بات صرف اتنی ہے کہ جامعیت کتاب ھذا کے سبب سے شرائع اولیٰ کی ضرورت نہ رہی۔اس کو بعض لوگوں نے کہہ دیا بلکہ مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ کی شرح کی تفسیر میں بیان بھی آچکا ہے کہ شرائع سابقہ اس شریعت محمدیہ سے منسوخ ہیں۔ایک فارسی کا شاعر کہتا ہے کہ نه ازلات و غزی برآورد گرد که توریت و انجیل منسوخ کرد یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے بت پرستی ہی موقوف نہیں کی بلکہ ایسی جامع ہدایت کتاب پیش فرمائی کہ اس کے سامنے کتب سابقہ و ہدایت مافیہ کی ضرورت نہ رہی۔یہ نہیں کہ اچھی باتیں اب اچھی نہ رہیں۔اچھی ہمیشہ اچھی ہیں۔عرب میں ایک مثل ہے كُلُّ الصَّيْدِ فِي جَوْفِ الْفَرَاءِ -