اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 239
لا يحب الله ٦ ۲۳۹ المايدة۔b سَمَّعُونَ لِلْكَذِبِ أَكُلُونَ لِلسُّحْتِ ۴۳۔جھوٹ بولنے کے لئے کچھ سننے آتے ہیں سخت حرام خور ہیں۔پھر اگر وہ تیرے پاس آئیں فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ تو ان میں فیصلہ کر دے یا ان سے منہ پھیر لے أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ ) تیرا اختیار ہے ) اور ان سے تو منہ پھیر لے تو وہ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ تجھے کچھ بھی نقصان وضرر نہ دے سکیں گے اور اگر فیصلہ کرے تو ان میں تو انصاف سے فیصلہ کر کہ فَاحْكُمُ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ بے شک اللہ منصفوں کو دوست رکھتا ہے۔الْمُقْسِطِينَ وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرية ۴۴۔اور وہ تجھ کو کس طرح منصف بنائیں گے فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ حالانکہ ان کے پاس تو ریت ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی یہ پھر وَمَا أُولَيكَ بِالْمُؤْمِنِينَ جاتے ہیں یہ لوگ ہیں جو مانتے ہی نہیں۔اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيْهَا هُدًى وَنُورٌ ۴۵۔بے شک ہم نے توریت اتاری جس میں يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوالِلَّذِينَ ہدایت اور روشنی ہے اس کے موافق حکم دیتے تھے فرمان بردار نبی یہودیوں کو اور علماء وفقہاء هَادُوا وَالرَّبْنِيُّونَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اور حکماء اللہ والے درویش کیونکہ وہ محافظ ٹھہرائے اسْتَحْفِظُوا مِنْ كِتَبِ اللهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ گئے اللہ کی کتاب سے۔اور وہ تھے اور رہیں گے شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ گواہ اور خبر گراں (ان سے کہا گیا تھا) تم لوگوں آیت نمبر ۴۳ - سمعُونَ لِلْكَذِبِ۔اس کے تین معنی ہیں (۱) ایک جھوٹ سن لیتے ہیں (۲) جھوٹی بات کا یقین کر لیتے ہیں (۳) جھوٹ بولنے کے لئے سننے آتے ہیں۔آیت نمبر ۴۴ - يَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ - حق نہیں سنتے۔حق نہیں بولتے عمل نہیں کرتے۔آیت نمبر ۴۵ - هُدًى وَ نُور۔یعنی قرآنی احکام رسول الله علی کا بیان ہے اور حضور کی پیش گوئیاں اور توحید کا بیان۔يَحْكُم بِھا۔اس سے ظاہر ہے کہ ایک قسم نبیوں کی وہ بھی ہے کہ جو شریعت جدید نہیں لاتے بلکہ اپنے سے پہلی شریعت پر حکم کرتے ہیں۔بِمَا اسْتَحْفِظُوا۔اہل کتاب کے معززین کو کتاب اللہ کی حفاظت کرنے والا بنایا گیا۔انہوں نے اس کی حفاظت نہ کی۔قرآن کریم کی حفاظت کا کام اللہ تعالیٰ نے خود لیا۔