اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 233
لا يحب الله ٦ ۲۳۳ المايدة۔وَجَعَلَكُمْ مُّلُوا وَاشْكُمْ قَالَمْ يُؤْتِ پیدا کئے اور تم کو بادشاہ بنایا یعنی سلطنت والی قوم اور تم کو وہ کچھ دیا جو تمہارے زمانے میں کسی کو أَحَدًا مِنَ الْعَلَمِينَ ہم نے نہیں دیا تھا دنیا جہان سے۔يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي ۲۲ - اے قوم! اُس پاک ملک میں داخل ہو جاؤ جس کو اللہ نے تمہارے لئے محفوظ رکھا ہے (اور كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ لکھ دیا ہے کہ وہ تمہیں کو ملے ) اور تم الٹے پھر و فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ تو تم بڑے ٹوٹا پانے والے ہو جاؤ گے۔قَالُوا يَمُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ ۲۳۔قوم نے کہا اے موسیٰ! اس ملک میں تو ایسی زبر دست قوم ہے کہ ذرہ بھی نقص آ جاوے وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهَا تو اصلاح کر لیتی ہے اور ہم تو وہاں ہرگز نہ خْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَخِلُونَ جاتے ہیں نہ جائیں گے جب تک وہ لوگ وہاں سے نہ نکل جائیں، ہاں جب وہ وہاں سے نکل جاویں گے تو ہم وہاں داخل ہوں گے۔قَالَ رَجُلْنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللهُ ۲۴۔اور اُن دو آدمیوں نے کہا جو اللہ سے خوف عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَإِذَا رکھنے والے تھے جن پر اللہ کی مہربانی تھی کہ دروازے میں تو گھس پڑ وحملہ کر کے پھر جب تم (بقیہ حاشیہ ) ضرورت نہیں مانتے حالانکہ اہل کتاب کی تقریباً چھ سو سالہ فَتُرَت کو اُن کے لئے یہ کہہ دینے کو جائز قرار دیتی ہے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا اور یہ مسلمان تیرہ سو سال بعد بھی اس نذیر کو نہیں مانتے جس کی سچائی اللہ تعالیٰ نے زور آور حملوں سے ظاہر کی ہے۔اور مسیح موعود نبی اللہ ہو گا اور وہ مع اپنے کمالات کے ظاہر ہوگا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔كَذَا فِي الْمِشْکوۃ۔آیت نمبر ۲۲ - كَتَبَ اللهُ لَكُمْ۔یہ پیش گوئی اور وعدہ ہے بیت مقدس کی فتح کا۔آیت نمبر ۲۳۔وَإِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا۔قوم کی خلاف ورزی سے ظہور پیش گوئی میں تا خیر اس قدر ہو جاتی ہے کہ امام بھی ظہور پیشگوئی نہیں دیکھ سکتا۔چنانچہ حضرت موسی قبل فتح بیت المقدس را ہی ملک بقا ہوئے۔قوم کی سستی نے غضب ڈھایا۔آیت نمبر ۲۴ - قَالَ رَجُلن - صدیق یوشع و کالب علیہما السلام نے کہا۔