اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 232
لا يحب الله ٦ ۲۳۲ المايدة ه وَاحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ کے بیٹے ہیں اور اس کے پیارے ہیں۔تم جواب بِذُنُوبِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ط دو ( ایسا ہے تو ) پھر تم کو اللہ عذاب کیوں دیتا ہے یا دے گا تمہارے گناہوں پر ہاں تم تو بشر ہی ۖ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَلِلَّهِ ہو اس کی مخلوق میں اللہ جس کے چاہے گناہ مُلكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ڈھانچے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو ان وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ دونوں میں ہے اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔يَاهْلَ الْكِتُبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ ۲۰۔اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) جو تم سے کھول کھول لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُولُوا مَا کر بیان کرتا ہے جب رسولوں کا ٹوٹا پڑ گیا تھا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کہنے لگو کہ ہمارے پاس تو کوئی جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ وَاللهُ عَلى كُلِّ نہ دوستوں کو خوشخبری سنانے والا نہ دشمنوں کو ڈرانے والا آیا تو کچھ شک نہیں کہ تمہارے پاس شَيْءٍ قَدِيرٌن بشارت دینے والا اور ڈرانے والے آیا۔اور اللہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ اذْكُرُوا ۲۱۔اور ( وہ یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا اے میری قوم! اللہ کے وہ احسان یاد کرو نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ جو اس نے تم پر کئے ہیں۔اُس نے تم میں پیغمبر (بقیہ حاشیہ) قرار دیتے ہیں اور نصاری مسیح کی صلیب کو اپنا خدا سے تعلق اور باعث قرار دیتے ہیں ان کی تردید صرف اسی قول سے ہو جاتی ہے کہ اگر یہ دونوں باتیں باعث نجات ہیں اور تمہارے گناہ بالکل بخشے گئے ہیں تو پھر اس دنیا میں تم کو دوسرے انسانوں کی طرح کیوں رکھا گیا ہے جیسا اور لوگوں کو زنا سے آتشک ہو جاتی ہے تمہیں بھی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔آیت نمبر ۲۰۔بَشِيرٌ ونَذِيرٌ - مسیح اور موسیٰ کا مثیل۔آیت نمبر ۲ - يُقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ ـ نعمت سے مراد سلطنت اور نبوت ہے اس لئے کہ جسمانی حفاظت۔حفاظت جان و مال اور عزت سے ہوتی ہے اور روحانی حفاظت ، حفاظت ایمان اور اعمال صالح اور اخلاق فاضلہ سے ہوتی ہے۔جسمانی کا باعث سلطنت ہوتی ہے اور روحانی کے لئے نبوت ہوتی ہے۔إِذْ جَعَلَ فِيْكُم انبیاء۔تعجب ہے آج کل کے مسلمانوں پر کہ وہ اس زمانہ میں کسی بشیر و نذیر کی