اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 17
۱۷ البقرة ٢ مَعَ الرَّاكِعِينَ کرو اور اللہ کے سامنے جھکنے والی جماعتوں کے ساتھ تم بھی جھکو۔اَ تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ ۴۵۔بھلا کیا تم دوسروں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتُبَ اپنے آپ کو بھولے جاتے ہو حالانکہ تم کتاب بھی پڑھتے رہتے ہو پھر کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں ہے۔أَفَلَا تَعْقِلُونَ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَ إِنَّهَا ۴۶۔اور نیکیوں پر ہمیشگی اور بدیوں سے بچنے اور دعائیں کرنے پر مضبوط رہو اور صبر اور دعا کرنا بڑی لكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ باتیں ہیں مگر دل سے ڈرنے والوں کیلئے (نہیں) الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوْا رَبِّهِمْ ۴۷۔جو یقین رکھتے ہیں کہ انہیں اللہ کے حضور چھ حاضر ہونا ہے اور یقیناً یقیناً اس کی طرف لوٹ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ ) جاتا ہے۔يُبَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِى ۴۸- اے یعقوب کی اولاد! تم میرے ان اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ انعاموں کو یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے آیت نمبر ۴۴۔وَ أَقِيمُوا الصَّلوةَ۔نماز کے ایک یہ بھی معنی ہیں کہ انسان جو اقرار اللہ کے سامنے کرتا ہے اپنی حرکت وسکون سے۔ان اقراروں پر قائم رہے جیسے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ایک اقرار ہے۔وَارْكَعُوا مَعَ الرکعین۔یعنی جو رجوع بحق ہو رہے ہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ، ان کے ساتھ تم بھی جھک جاؤ اور ساتھ ہو جاؤ۔آیت نمبر ۴۵۔اَفَلَا تَعْقِلُونَ۔عقل کے معنی روکنے کے ہیں۔عقل اسی قوت کا نام ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے آپ کو بدیوں اور خطرات سے بچاتا ہے۔یہ لفظ عِقال سے نکلا ہے جس کے معنی وہ رسیاں ہیں جن سے اونٹ کا گھٹناباندھا جاتا ہے۔آیت نمبر ۴۶ - بالصبر۔مصیبت کے وقت اپنے آپ کو اطاعت پر جمائے رکھنا اور بدی سے یا معصیت سے روکے رکھنا۔آیت نمبر ۴۷ - يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ۔جس ظن کے بعد ان آئے اس کا ترجمہ یقین کا ہوگا۔