اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 226
لا يحب الله ٦ المايدة۔أجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ قابو میں لانے والے ہو نہ نیوگ کرنے والے اور نہ متعہ کرنے والے شہوت رانی کے لئے ، اور نہ چوری وَلَا مُتَّخِذِى أَخْدَانٍ وَمَنْ يَكْفُرْ چھپے آشنا بنانے کو۔اور جو نہ مانے ایمان کی باتیں اور بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِی ایمان کا انکار کرے تو سب اس کا کیا کرایا اکارت ہوا الْآخِرَةِ مِنَ الخَسِرِينَ اور وہ انجام کا رنقصان پانے والوں میں ہوگا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمتُم إِلَى الصَّلوة - اے ایماندارو! جب تم ارادہ کرو نماز کا تو فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى اپنے منہ دھولیا کرو اور کہنیوں تک ہاتھ اور سر کا الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمُ مسح کر لیا کرو اور دونوں ٹخنوں تک اور اگر تم کو نہانے کی حاجت ہو تو اچھی طرح پاک صاف ہو کر نہاؤ اور جب تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم وَاَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ * وَإِن كُنتُم جنبًا فَا طَهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَّرْضَى أو میں سے آئے جائے ضرور سے عورت سے صحبت عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَابِطِ کی ہو پھر تم کو پانی میسر نہ ہو تو ارادہ کرو پاک مٹی أوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً کا پھر اپنے منہ مل لو اور ہاتھوں کو اُس سے۔فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا لے پاؤں کو دھو لیا کرو۔آیت نمبرے - يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا - لذاتِ جسمانی کا بیان ہو چکا تو اب اُخروی معاملہ کی طرف توجہ فرمائی۔فَاغْسِلُوا وُجُوْهَكُمْ۔چونکہ خلقت انسانی دو چیزوں سے ہے ایک تو خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ (الطارق : ۷) دوسرے خَلَقْتُكُمْ مِنْ تُرَابِ (الحج:۲) اس لئے غنسل یا تیم کا حکم ہوا۔اَرْجُلَكُمْ۔دُھلے ہوئے پاؤں میں شرعی موزہ ہو تو مسح کیا کرو ورنہ وضو۔إِلَى الْكَعْبَيْنِ۔اس کا تعلق اِغْسِلُوا سے ہے نہ اِمْسَحُوا سے کیونکہ اگر امْسَحُوا سے ہوتا تو اس پر زیر ہوتی مگر قرآن میں سوائے فتح کے اور کوئی حرکت لکھی ہوئی نظر نہیں آتی۔اس کو پیچھے اس لئے لایا گیا تا کہ وضو کی ترتیب بتلائی جائے۔قرینہ اس پر یہ ہے کہ مسح کے حکم میں اللہ تعالیٰ نے حد بندی نہیں کی مطلق فرما دیا کہ سروں کا مسح کرو۔یہ نہ کہا کہ چوتھائی سرکا یا آدھے سر کا یا سارے سرکا، گڈی تک یا گردن تک مگر پاؤں