اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 225 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 225

لا يحب الله ٦ ۲۲۵ المايدة ه فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكُنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا جو تم کو سکھا رکھا ہے تم ان کو سکھا چکے ہو تو کھا لو اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ اس شکار میں سے جو وہ تمہارے واسطے پکڑ رکھیں تمہارے اشارہ سے دبوچیں اور اس پر اللہ کا نام لو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ۔بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔اَلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ وَطَعَامُ - آج تمہارے لئے سب پاکیزہ چیز میں حلال کر دی الَّذِيْنَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَّكُمْ گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ جو تمہارے کھانے کا ہو اور تمہارا کھانا انہیں حلال ہے ( ہر حال میں ) اور پاک دامن عورتیں ایمان دار اور قابو الْمُؤْمِنَتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا میں رہنے والی عورتیں اہل کتاب میں سے ( تمہارے الكتبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُوهُنَّ واسطے حلال ہیں ) جب تم ان کو ان کے مہر دے چکے آیت نمبر 1 - الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَتُ - تمام خوشگوار مفید و پاکیزہ چیزیں جو جسم اور قومی فطری اور اخلاق اور عقائد پر برا اثر نہ ڈالیں اور فسادات پیدا نہ کریں وہ تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں۔وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ۔یعنی اہل کتاب کو بھی وہی چیزیں حلال ہیں جو مسلمانوں میں جائز ہیں اور جو اسلام میں ناجائز ہیں جیسے سور، مردار وغیرہ وہ اہل کتاب کے ہاتھ سے بھی جائز نہیں۔وَالمُحْصَنَت۔اس آیت سے نکاح متعہ جو عرب میں رنڈی بازی کے بجائے رائج تھا حرام ہے کیونکہ متعہ میں یہ نیت نہیں ہوتی کہ وہ مُحْصَنَات کی طرح پاک دامن بیوی بن کر رہے بلکہ محض شہوت رانی اور مستی نکالنے کے لئے ہوتی ہے۔اس لئے ترکہ میں متعہ والی عورت کا حق اسلام نے مقرر نہیں کیا۔اور نہ اس کی اولاد کا۔جیسے رنڈی بازی حرام ویسے ہی متعہ بھی۔کیونکہ دونوں سے ہی چند گھنٹے یا چند دن کے لئے اُجرت دے کر مستی نکالنا مقصود ہے۔تو یہ عورتیں مُحْصَنَہ نہیں مُسَافِحِین ہیں۔اس کو صاف تر خدا وند تعالیٰ نے سوره مومنون رکوع اوّل (آیت ۶ تا ۸ ) میں بیان فرمایا ہے یعنی اپنی منکوحہ اور شرعی لونڈی کے سوا کسی عورت کے قریب جانا جائز نہیں۔مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الكتب۔اور حضرت علیؓ کے ارشاد کے موافق مجوسیوں اور آریوں کی بھی عورتیں اہل کتاب میں شریک ہیں شاید یہی وجہ ہو کہ جلال الدین اکبر بادشاہ نے جودہ بائی وغیرہ سے نکاح کیا۔