اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 223
لا يحب الله ٦ ۲۲۳ المايدة ه به الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ خون اور سور کا گوشت اور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر پکارا جاوے اور گلا گھونٹ کر مارا وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ جاوے اور جو چوٹ سے مارا جاوے اور جو گر کر وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ مرا اور جو سینگ لگ کر مرا اور جن کو درندے نے وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصْبِ وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوا پھاڑ کھایا مگر ہاں تم نے جس کو مرنے سے پہلے ذبح کر لیا۔اور حرام ہے جو کسی تھان یا دیوی کے بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَبِسَ سامنے ذبح کیا گیا ہو اور وہ جو تیروں سے تقسیم (بقیہ حاشیہ ) وَالدَّهُ - خون بہہ سکتا یا بہایا گیا ہو۔مگر وہ تھوڑا سا لہو جو رگوں میں یا گوشت پر لگا رہ جائے معاف ہے۔حدیث میں دومر دار اور دو خون جائز بتائے گئے ہیں۔مچھلی اور ٹڈی اور دوخون یعنی جگر و طحال اور مشک۔وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللہ ہے۔وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر پکارا گیا ہو جیسے کسی دیوی یا دیوتا کے یا کسی پیر یا مزار کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور پہلے سے کسی غیر اللہ کے نام پر نامزد کیا گیا ہو مثلاً شیخ سد و۔سید صاحب کا بکرا اور اُجالے شاہ اور شاہ مدار کامر غا۔سید احمد کبیر زماعی کی گائے اور کالی بہوانی کا سانڈ یا ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بھی لے لیا ہو۔یہ حرمت رسومات شرک و بدعت و جہالت کی وجہ سے ہے۔وَالْمُنْخَنِقَةُ - مثلا رسّی کے پھندے سے یا ڈالی میں پھنس کر یا ہاتھ سے گلا گھونٹا ہوا۔خلاصہ یہ کہ جس موت سے خون اندر ہی اندر بند رہ جائے وہ حرام ہے۔وَالْمَوْقُوذَةُ -کند آلہ کی ضرب سے مارا گیا ہو جیسے لاٹھی اور پتھر وغیرہ سے اگر دھار دار آلہ سے مارا اور بسم اللہ پڑھ لی اور زخم سے خون بہا تو حلال ہے اسی طرح شکاری جانور کا بسم اللہ کہہ کر چھوڑ نا ذبح میں شریک ہے۔وَالْمُتَرَدِّيَةُ ـ یعنی جو اونچے سے گر کر مرا ہو جیسے درخت یا مکان یا کنوئیں یا پہاڑ وغیرہ سے۔یہ خود مردہ میں شریک ہے۔وَالنَّطِيحَةُ۔یہ کند آلہ کی ضرب کی مثل ہے اور ذبح نہ ہونے سے خود مُردہ میں شمار ہے۔وَمَا أَكَلَ السَّبْعُ۔اور ذبیح اور نحر کرنے کا موقعہ نہیں ملا اور یہی حال مُنْخَنِقَة اور مَوْقُوذَة مُتَرَدِيَّة اور نَطِيحَة کا ہے کہ وہ ذبح یا حر کئے جائیں تو حلال ہیں ورنہ حرام۔عَلَى النُّصبِ۔بے گھڑے ہوئے پتھر ہیں جو پوجا کے لئے مشرک کھڑا کر لیتے ہیں۔ایسی پوجاؤں کی جگہ ذبح کئے ہوئے جانور حرام ہیں کیونکہ شرک کی تحقیر مقصود ہے۔بِالْأَزْلَامِ۔یہ ایک خاص قرعہ اندازی کی مثال ہے۔عرب کا دستور تھا کہ وہ تیروں سے قرعہ اندازی