اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 218 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 218

لا يحب الله ٦ ۲۱۸ النساء ٤ يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ ا۔اے لوگو! تمہارے پاس یہ رسول آیا برحق سچا تمہارے رب کی طرف سے تو مان لو اس کو کہ مِنْ رَّبِّكُمْ فَامِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ وَإِنْ تمہارے لئے بہتر ہے، اور اگر اس کا انکار کرو تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِی السَّمواتِ گے تو اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ہے، اور اللہ بخوبی جاننے والا حکمت والا ہے۔ياهل الكتبِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا ۱۷۲۔اے کتاب والو! حد سے نہ گزر جاؤ اپنے تَقُوْلُوْا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمُسِيحُ اپنے طریقے میں اور نہ بولو اللہ کی نسبت مگر حق بات۔سوائے اس کے نہیں عیسی مسیح مریم کے عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ بے صرف اللہ کے رسول اور اللہ کی ایک بات الْقُهَا إلَى مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِنْهُ فَامِنُوا اور اللہ کی ایک وحی ہیں جو مریم کی طرف اتاری گئی تو اللہ اور اس کے رسولوں کو مانو۔اور نہ کہو بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَثَةٌ إِنْتَهُوا اللہ تین ہیں۔رک رہو اور باز آ جاؤ کہ تمہارا بھلا خَيْرَ الكُمْ إِنَّمَا الله إِلهُ وَاحِدٌ سُبْحَنَةٌ ہو اللہ تو بس ایک اکیلا ہی سچا معبود ہے پاک آیت نمبر ۱۷۔مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ۔یعنی وہ اُسے کامیاب کر دے گا اور اُس کے ماننے والے پیدا ہو جائیں گے اور تمہاری مخالفت ناچیز ہوگی۔آیت نمبر ۱۷۲ - ياهل الكتب - خاص نصاری سے کہا جاتا ہے اور دوسرے اہل کتاب سے بھی۔وَكَلِمَتُه - یہاں کلمہ سے مراد الفاظ ہیں جو اِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ (ال عمران: ۴۶) میں ہیں۔قرآن اور حدیث اور صحابہؓ کے محاورہ میں کلمہ لفظ مفرد کو نہیں کہتے بلکہ بمعنی کلام آتا ہے۔جیسے وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَ عَدْلًا (الانعام: ۱۱۶) وغیرہ كَلِمَتُه اور رُوح منہ ایک ہی چیز ہیں یعنی حضرت مریم پر ایک وحی ہوئی تھی کہ ایک لڑکا ایسا ایسا تم کو ہو گا۔عیسائی کہتے ہیں عیسی ابن مریم خدا کی روح تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا تھے۔یہاں روح کے معنی خاص وحی و کلام کے ہیں جو مریم کی طرف کی گئی تھی۔جس کے ثبوت کے لئے سورہ نحل رکوع اول۔ختم۔مؤمن رکوع دوم۔شوری رکوع پنجم ملاحظہ ہو۔وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلًا۔یعنی اس کو مددگار اور اولاد کی حاجت نہیں۔