اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 215 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 215

لا يحب الله ٦ ۲۱۵ النساء ٤ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتُبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ ۱۲۰۔اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے نہیں (خواہ یہودی ہو یا نصاری) وہ ایمان لائے ہیں اور جر مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًان لائیں گے یا سدا ایمان رکھیں گے (اس کی صلیبی موت اور لعنتی موت پر ) اپنے مرنے سے پہلے اور قیامت کے دن خود حضرت مسیح ان لوگوں پر گواہی دیں گے۔فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ ۱۶۔پس یہودیوں کی شرارت کی وجہ سے ہم طَيِّبتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِهِمْ عَنْ سَبِيْلِ نے اُن پر حرام کر دی پاکیزہ اور ستھری چیزیں جو اُن کے لئے حلال تھیں اور اس سبب سے بھی کہ اللهِ كَثِيرًا وہ اللہ کے رستے سے بہت روکتے تھے۔وَاخْذِهِمُ الرَّبُوا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ ۱۶۲۔اور ان کے سود لینے کے باعث حالانکہ ان آیت نمبر ۱۶۰۔وان من۔یہ پیش گوئی ہے اہل کتاب کی نسبت جو معتقد کفارہ یا مصلوب وملعون ہونے کے قائل ہیں۔أَهْلِ الْكِتُب۔اس سے وہ اہلِ کتاب مستثنی ہیں جو موحد اور واقف راز حالات صلیبی حضرت عیسیٰ و علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور جو مقتول بالصلیب ہونے کے قائل نہیں۔لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ۔(۱) مسلمان کے لئے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مانا کافی نہیں صحیح معنی یہ ہیں۔کوئی اہل کتاب یہودی ہو یا عیسائی ہو حضرت عیسی کے قتل پر ہی ایمان لاتا رہے گا اپنے مرنے سے پہلے اور بعد مرنے کے حقیقت کھلے گی کہ وہ بالکل غلطی پر تھا کیونکہ وہ مقتول و مصلوب ہو کر مرے نہیں تھے۔بہ کی ضمیر مسیح کی طرف نہیں جاسکتی۔اوّل اس لئے کہ یہاں تمام قوم کا حصر ہے جس سے ایک فرد بھی باہر نہیں رہ سکتا۔حالانکہ واقعہ اس کے خلاف ہے۔کروڑوں یہودی مرے اور مریں گے لیکن ان میں مسیح کو کوئی نہیں مانتا۔دوم سیاق و سباق کے خلاف ہے کیونکہ ابتدائے رکوع سے لے کر انتہائے رکوع تک یہودیوں کی عیب شماری کی ہے۔مسیح کو مانا تو نیکی ہے۔یہ اختلاف کلام اللہ میں جائز نہیں اور یہود میں سے نیک لوگوں کو آخری آیت میں استثناء بیان فرمایا ہے۔صحیح معنی اس کے یہ ہیں کہ یہ ضمیر فن کی طرف یا قول کی طرف جو پہلی آیت میں مذکور ہیں جاتی ہے اور قَبْلَ مَوْتِہ کی ضمیر ہر ایک اہل کتاب کی طرف نہ حضرت مسیح کی طرف كَمَا فِي الْبَيْضَاوِی۔آیت نمبر ۱۶۱ - حَرَّمنا۔کی تشریح سوره انعام عَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا ( الانعام: ۱۴۷) میں مذکور ہے۔