اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 214 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 214

لا يحب الله ٦ ۲۱۴ النساء ٤ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ لوگوں نے ہماری اس بات میں اختلاف کیا تو وہ لوگ ایک شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ان کو علم الَّا اتَّبَاعَ الظَّنَّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينان یقینی اور علمی طور پر مسیح کا مصلوب ہونا ثابت نہیں، ہاں ایک گمان ہے اس کی پیروی کی ہے اور یقیناً یقیناً اس کو ملعون نہ ثابت کر سکے۔بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا ۱۵۹ - ( وہ ملعون کیونکر ہوسکتا تھا) جس کا رفع الی اللہ ہو یعنی اس کو اللہ نے اپنا مقرب نبی بنایا حَكِيمان اور اللہ بڑا ز بر دست بڑا حکمت والا ہے۔(بقیہ حاشیہ ) مارا اس کو لیکن قتل صلیبی کا اشتباہ ہوا ان کو۔صلیب کا واقعہ ۳۳ سال کا ہے اور وفات حضرت عیسی علیہ السلام اس کے ۸۷ سال کے بعد ہے۔چنانچہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ عیسی علیہ السلام کی عمر ۱۲۰ سال کی ہوئی۔کنز العمال جلد 4 صفحہ ۱۲۰ (رسالہ واقعہ صلیب کی چشم دید شہادت مترجمہ میاں معراج الدین صاحب انا ریلی لاہور بھی ملا حظہ ہو)۔وَمَا صَلَبُوهُ - استثناء باب ۲۱ آیت ۲۳ ' جو پھانسی دیا جاتا ہے وہ خدا کا ملعون ہے لہذا عیسی علیہ السلام صلیب سے نہیں مارے گئے زندہ اتارے گئے۔وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ - مُشَبَّه بِالمَصْلُوب بنایا گیا اُن کے لئے اور اُن کو شبہ پڑا انہوں نے سمجھا کہ مسیح مر گیا حالانکہ وہ مرا نہ تھا دیکھو انجیل متی باب ۲۸ آیت ۹۱۔إِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوا فِيهِ - یعنی وہ کہتے ہیں کہ قَتَلْنَا۔خدا فرماتا ہے کہ نہیں مگر مصلوب کے رنگ میں تھا۔آیت نمبر ۱۵۹ - بَلْ رَّفَعَهُ الله اِلَیهِ - بلند مرتبہ بنایا اُس کو اپنی جناب میں اور رَفَعَهُ اللَّهُ أَى أَكْرَمَهُ اللهُ (مفردات راغب ) میں مذکور ہے۔علاوہ بریں رفع خالق کا اپنی مخلوق کو ہے۔نہ رفع باپ کا بیٹے کو جس کا رفع خدا نے کیا اس کو مارا مسیح خدا کا بندہ تھا نہ بیٹا۔عَزِيزًا حَكِيمًا۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب سے زندہ بچا لیا اس وقت ان کی عمر ۳۳ سال کی تھی۔پھر ستاسی برس زندہ رکھا پھر وہ اپنی طبعی موت سے کشمیر میں مرے۔محلہ خان یار میں مدفون ہیں۔كَــمــا ثَبَتَ فِي مَحَلِّه -