اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 213
لا يحب الله ٦ ۲۱۳ النساء ٤ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ إِلَّا قَلِيْلًا معظم اور مکرم ہیں ( معظم اور مکرم کیا ہیں ) بلکہ اللہ نے اُن کے دلوں پر نقش کر دیا ہے اُن کے کفر کے سبب سے وہ تو ایمان لاتے ہی نہیں مگر بہت کم۔وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ ۱۵۷۔اور اُن کے انکار اور مریم پر بڑے بڑے بُهْتَانًا عَظِيمًان مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا بہتان لگانے۔وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ ۱۵۸۔اور یہ کہنے سے کہ ہم نے ملعون ثابت کر دیا مسیح عیسی مریم کے بیٹے کو جو ( بزعم خود ) رسول اللہ تھا حالانکہ نہ وہ ملعون ثابت ہوا اور نہ وہ سولی صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ پر مرالیکن وہ مصلوب کی طرح ان کو دکھا، اور جن (بقیہ حاشیہ) گناہ غفلت۔سستی۔بد صحبت۔انبیاء و اولیاء کے وجود و عدم وجود کو مساوی سمجھنا اور محض انکار کرنا۔لوگوں پر بہتان لگانا وغیرہ افعال شنیعہ سے طبع ران - رين - غَان - غَین - خَتَمَ - صُمٌّ بُكْمٌ - عُمى - قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ اقْفَالَ۔موتی وغیرہ امور پیدا ہو جاتے ہیں یعنی جو سیا ہی دل پر چھا جاتی ہے اُسے ران و رین کہتے ہیں۔بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمُ (المطففين: ۱۵) بدصحبت سے جو میل قلب پر آتا ہے اس کا حدیث میں ذکر ہے إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي فَاسْتَغْفِرُ اللهَ فِى الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً عَنادِ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ (البقرة: ۸) انکار محض میں طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ (النساء :١٥٢) صُمٌّ بُكُمْ عُيٌّ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقرة: 19) اور عَلَى قُلُوْبِ أَقْفَالُهَا (محمد: ۲۵) اور ایک مرتبہ ہے جہاں انسان مر جاتا ہے اور اس کو پند و نصیحت کچھ مفید نہیں ہوتی جیسا کہ فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتُى (الروم: ۵۳) - آیت نمبر ۱۵۸ - إِنَّا قَتَلْنَا - قَتَلَهُمُ اللَّهُ أَتى يُؤْفَكُوْنَ (القوبة: ٣٠) اور قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ (عبس: ۱۸) - اى لُعِنَ كَذَا فِي الْقَامُوسِ - رَسُولَ اللهِ۔یہ بطور استہزاء کے کہا ہے کیونکہ استثناء توریت باب ۲۱ آیت ۲۳ میں مصلوب و مقتول نبی ملعون سمجھا جاتا تھا۔وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ۔نہ کسی طرح قتل کیا اس کو اور نہ سولی سے