اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 212 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 212

لا يحب الله ٦ ۲۱۲ النساء ٤ يَسْتَلُكَ أَهْلُ الْكِتُبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ ۱۵۴۔اہل کتاب تجھ سے درخواست کرتے ہیں كتبا مِنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى اَكْبَرَ کہ تو اُن پر آسمان سے ایک کتاب اتار لائے تو بے شک موسیٰ سے تو اس سے بڑھ کر درخواست مِنْ ذلِكَ فَقَالُوا اَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ کر چکے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ہم کو دکھا دے الصُّعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ اللہ کو کھلم کھلا ان کو پکڑ لیا بجلی نے ان کے گناہ کے سبب پھر بچھڑے کی پوجا اختیار کی اس کے مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنْتُ فَعَفَوْنَا عَنْ بعد کہ آچکی تھیں کھلی کھلی نشانیاں اُن کے پاس ذلِكَ وَأَتَيْنَا مُوسَى سُلْطَنًا مُّبِينًا ( توحید و نبوت کی) پھر ہم نے اس سے بھی در گزر کیا اور موسیٰ کو صریح سند اور غلبہ دیا۔ورَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِيْثَاقِهِمْ وَقُلْنَا ۱۵۵۔اور وہ طور کے نیچے تھے جب اُن سے قول لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَ قُلْنَا لَهُمْ و قرار لیا ہم نے اور ہم نے ان کو کہا کہ دروازہ میں داخل ہو فرمانبردار ہو کر اور ہم نے ان سے لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ کہا آرام اور سکھ کے دن میں زیادتی نہ کرو اور ان سے ہم نے پکا قول بھی لیا۔مِيثَاقًا غَلِيظًا فَيَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِأَیتِ ۱۵۶ تو ان کے قول و قرار توڑنے کی وجہ سے اور اللهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٌّ وَقَوْلِهِمْ اللہ کی نشانیوں کے انکار کے سبب سے اور ناحق نبیوں کے قتل کرنے کے منصوبوں اور مقابلہ کرنے قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا کے باعث اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل بڑے آیت نمبر ۱۵۴ - كِتبًا مِنَ السَّمَاء۔خیالی بات جو کوئی دل میں جما لیتا ہے خلاف واقعہ نکلنے پر ابتلا میں پڑ جاتا ہے اس لئے فہم میں احتیاط کرو۔دیکھو وہ کتاب جُمْلَةً وَاحِدَةً چاہتے ہیں اور یہاں نَجْمًا نَجْمًا آتی ہے۔آرِنَا اللهَ جَهْرَةً ـ یعنی یا تو ہم خود خدا کو کھلا ہوا دیکھ لیں یا ایسی نازک بات تکبر سے کہی جس سے حاکم اعلیٰ کی تخفیف مقصود ہے جیسے کوئی کسی پولیس کے جو ان سے کہے کہ خود کو تو ال صاحب آئیں تو دیکھیں گے یا ہم رسول ہوں گے تو مان لیں گے۔آیت نمبر ۱۵۶ - بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا۔اس سے ظاہر ہے کہ کفر پہلے ہوتا ہے اور اس کی سزا میں مہر ہوتی ہے۔