اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 211
لا يحب الله ٦ ۲۱۱ النساء ٤ اِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللهِ وَرُسُلِهِ ۱۵۱۔جومنکر ہوتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ فرق نکالیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں کو مانتے ہیں وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضِ اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ مانے اور وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا نہ ماننے کے درمیان ایک راہ نکال لیں۔أُولَبِكَ هُمُ الْكَفِرُوْنَ حَقًّا وَاَعْتَدْنَا ۱۵۲۔تو یہی لوگ پکے کافر ہیں اور ہم نے تیار کر رکھا لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا مُّهِيْنًا ہے کافروں کے لئے ذلت اور رسوائی کا عذاب۔وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا ۱۵۳۔اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أُولَبِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ ایمان لائے اور ان میں سے کسی ایک کو بھی جدا نہ سمجھا تو یہی لوگ ہیں جن کو اللہ ان کے ثواب أجُورَهُمْ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيْمان دے گا۔اور اللہ بڑا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔آیت نمبر ۱۵ - إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ۔اس آیت میں چار قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی قسم میں داخل کیا ہے۔اوّل جو اللہ اور اس کے رسول دونوں کا انکار کرتے ہیں جیسے دہریہ (۲) جو اللہ کو مانتے اور رسولوں کا انکار کرتے (۳) جو سب رسولوں کو نہیں مانتے بلکہ بعض کو مانتے اور بعض کو نہیں مانتے جیسے آریہ۔پارسی۔بدھ۔یہود۔نصاریٰ اور غیر احمدی اور ان تُفَرِّقُوا بَيْنَ اللهِ وَرُسُلِهِ چکڑالوی اس کو غور سے دیکھیں۔نُؤْمِنُ بِبَعْضِ۔سوائے مذہب حقہ کے سب مذاہب باطلہ کا ابطال ہے۔آیت نمبر ۱۵۲ - عَذَابًا مُّهِینا۔یہاں سے ذکر ہے یہود کا قرآن میں۔اکثر ان کا اور منافقوں کا ذکر اکٹھا ہی فرمایا کہ اللہ کا ماننا یہی ہے کہ زمانہ کے پیغمبر کا حکم مانے اس بغیر اللہ کا ماننا غلط ہے۔موضح القرآن شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی )۔آیت نمبر ۱۵۳ - أُولَبِكَ سَوْفَ۔یہ جماعت ملہمین اور ائمہ مجتہدین اور کامل مومنین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ہے جن سے ان کے اجروں کے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔