اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 206 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 206

والمحصنته النساء الْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ غَنِيَّا حَمِيدًان بڑی ہی خوبیوں والا ہے۔وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۱۳۳۔اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے وَكَفَى بِاللهِ وَكِيْلًا اور زمین میں اور اللہ ہی کارساز بس ہے۔اِنْ يَّشَايُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ ۱۳۴۔وہ اگر چاہے تو تم کو دور کر دے اے لوگو! اور بِأَخَرِيْنَ وَكَانَ اللهُ عَلَى ذَلِكَ قَدِيرًان لے آوے دوسروں کو۔اس بات پر اللہ بڑا قادر ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللهِ ۱۳۵۔جو کوئی دنیا ہی کا اجر چاہتا ہے (وہ چاہا ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَكَانَ الله کرے بڑا ہی بے حوصلہ ہے ) پر اللہ کے یہاں سَمِيعًا بَصِيرَان دین اور دنیا دونوں کے اجر موجود ہیں اور وہ سمیع ہے بصیر ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ ۱۳۶ ایمان والو! منصف بنو۔عدل پر قائم رہنے شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ والے ہو اللہ لگتی گواہی دو اگر چہ تمہاری ذات کے برخلاف ہو یا تمہارے ماں باپ یا قریبی الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ رشتہ داروں کے خلاف ہو اگر چہ وہ مال دار ہو یا (بقیہ حاشیہ ) حَمِیدًا۔وہ تعریف کیا گیا۔یعنی منکر اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ وہ حمید ہے۔آیت نمبر ۱۳۴ - اِنْ يَّشَأْ يُذْهِبُكُمْ۔یہ قاعدہ ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے کہ جناب الہی کی مرضی سے آج ایک قوم عروج و ترقی پر ہے تو کل دوسری۔ہاں عروج و زوال اعمال کی برائی اور بھلائی کے موافق ہوتا رہتا ہے۔کامیاب قوم متقی ایماندار صالح ہوتی ہے اور نا کام جاہل ، فاسق ، فاجر ہمتکبر ،مغرور جیسا کہ ارشاد ہے کہ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَ لَبِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَانِ لَشَدِيد (ابراهیم: ۸) - وَسَنَجْزِي الشَّكِرِينَ (ال عمران:۱۴۶) وغیرہ آیات کثیرہ۔اگر مستقل ہو کر تقویٰ اختیار کرو گے تو دنیا اور دین دونوں تم کو عنایت ہوگا ورنہ دوسرے متقی اور لائق کارگزار تمہاری جگہ لے لیں گے۔آیت نمبر ۱۳۵۔سَمِيعًا۔مانگنے والوں کی سننے والا۔ہر ایک امر کا شنوا۔بصِيرًا۔کام کرنے والوں کو دیکھنے والا اور ہر ایک امر کا بینا۔