اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 203 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 203

والمحصنته النساء ٤ هُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَيْكَ يَدْخُلُونَ عورت بشرطیکہ وہ ایمان دار ہو تو یہ ہی لوگ جنت میں الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا جائیں گے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا شش برابر۔وَمَنْ أَحْسَنُ دِينَا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ ۱۲۶۔اور کون شخص ہے جس کا دین سب سے اچھا ہے وہ ہے جس نے اپنی ذات کو فدا کر دیا وَهُوَ مُحْسِنُ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْراهِيمَ حَنِيف وَاتَّخَذَ اللَّهُ ابْرُ هِيمَ خَلِيْلًا b اللہ کے لئے اور اپنا منہ جھکا دیا اللہ کے واسطے اور اللہ اس کی نگہ میں ہو اور وہ اخلاص سے نیکی میں لگا ہوا ہوا اور مخلص ابراہیم کے مذہب پر چل رہا ہو جو اکیلا اللہ ہی کا ہو رہا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنایا۔وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۱۲۷۔اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں اور سب چیزیں اللہ ہی کے قابو میں ہیں۔وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطَان 15 وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ الله ۱۲۸۔اور تجھ سے فتویٰ پوچھتے ہیں عورتوں کے يُفْتِيْكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ في مقدمہ میں۔تم جواب دو کہ اللہ فتویٰ دیتا ہے تم کو اُن کے مقدمہ میں اور وہ (جو سورۃ النساء کے الْكِتَبِ فِي يَتَمَى النِّسَاءِ الَّتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ ابتدا میں حکم دیا تھا) ان یتیم بچوں کے مقدمہ (بقیہ حاشیہ) اور رسول اللہ علیہ کی اتباع پر ہو جس کو صواب کہتے ہیں۔نَقِيرًا۔ذرہ۔کھجور۔گٹھلی پر خشخاش سے چھوٹا ایک دانہ ہوتا ہے۔آیت نمبر ۱۲۶۔اسلم۔رکھ دیا، قربان کر دیا ، بالکل بے اختیار بنایا خدا کے اختیار میں رکھ کر۔وَهُوَ مُحْسِنٌ۔یعنی وہ اللہ کو دیکھتا ہو یا اللہ اس کو دیکھتا ہو۔اللہ سے تعلق رکھنے والا صاحب دل ہو۔حَنِيفًا - سب مذاہب چھوڑ کر صرف خدا کا طرفدار۔سیدھی راہ کا چلنے والا۔حق کی مرضی کا متبع۔آیت نمبر ۱۲۸۔قُلِ الله يُفْتِيكُمْ۔عرب کے لوگ عورتوں کو تر کہ نہیں دیتے تھے اور چھوٹے لڑکوں کو بھی جو نیزہ بازی نہ کر سکیں اور یتیم لڑکیوں پر یہ ظلم تھا جو اُن کا سر پرست ہوتا وہی ان کا مختار گل ہو جا تا خواہ خود نکاح کر لیتا یا کسی سے نکاح کرا کے آپ مہر لے لیتا۔بیواؤں پر اُن کے خاوند کا وارث گل اختیار رکھتا۔قرآن نے میراث کا حق بتایا اور ہر ایک کا انصاف کیا۔ہندوستان میں بھی عورتوں کے حقوق میں نقصان کیا گیا ہے۔اللہ سب کو توفیق دے اور غضب سے بچائے۔