اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 202
والمحصنته ۲۰۲ النساء وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ ۱۲۳۔اور جو لوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا تو قریب ہی ہم ان کو داخل کریں گے ایسے باغوں الْأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا وَعْدَ اللهِ میں جس میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور بات حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيْلًا میں اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہو سکتی ہے۔لَيْسَ بِأَمَانِيكُمْ وَلَا آمَانِي أَهْلِ ۱۲۴۔وہ وعدہ نہ تو تمہاری آرزوؤں سے مل سکتا الْكِتُبِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَبِ وَلَا ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں سے جو کوئی بُرا کام کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا اور نہ اللہ کے سوا يَجِدُ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا کوئی اپنا حمایتی اور مددگار پائے گا۔وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ مِنْ ذَكَرٍ أَو ۱۲۵۔اور جو شخص سنوار کے کام کرے گا مرد ہو یا آیت نمبر ۱۲۳ - وَعْدَ اللهِ حَقًّا۔صرف ایماندار خالص الاعمال صالح کو جنت ملے گی یہ اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے۔آیت نمبر ۱۲۴- بِأَمَانِيكُم۔کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ہر ایک قوم اصل دین کو چھوڑ کر لغو اور باطل مسئلوں کے پیچھے پڑ جاتی ہے اور انہی کو موجب نجات قرار دے لیتی ہے۔مثلاً عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام کا کفارہ مان کر بے فکر ہو گئے۔یہود نے ٹھان لیا کہ ہم انبیاء کی اولاد اور خدا کے پیارے بیٹے ہیں۔مسلمانوں نے بلا عمل قرآن اتباع سید الا نام آنحضرت علی ﷺ پر ایمان لانا کافی سمجھا اور عوام مسلمانوں نے اولیاء اللہ کی محبت پلاعمل تقوی وسنت کافی سمجھی۔اور قیامت کے روز حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور صالحین کو ایسا شفیع سمجھا کہ جس کے لئے گنا ہوں سے بچنے اور اعمال صالحہ کے بجالانے کی ضرورت ہی نہیں اور عملی حیثیت سے قرآن اور آنحضرت اور اولیاء سے ایسے غافل ہوئے کہ خبر ہی نہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن کاموں سے بچنا چاہیے ہاں دنیا پرستی اور رسم پرستی میں غرق ہو رہے ہیں۔بُت پرست مورتوں پر بے فکر بیٹھے ہیں۔سکھوں نے گرنتھ کوسر پر رکھا ہے لیکن اس کی تعلیم سے کچھ کام نہیں۔على هذا ہر ایک فرقہ کا یہی حال ہو رہا ہے۔لَا أَمَانِي أَهْلِ الكتب - مسلمان ہوں یا اہل کتاب کسی کے امکانی اور آرزوئیں کام نہیں آتیں جب تک کہ اس کے پانے کے لئے ایمان اور عمل صالح نہ کیا جائے۔آیت نمبر ۱۲۵۔وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ - عمل صالح۔اللہ ہی کے لئے ہو جس کو اخلاص کہتے ہیں