اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 200
والمحصلته ۲۰۰ النساء أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفِ أَو إِصْلَاحٍ اُس میں کچھ بہتری نہیں مگر ہاں جو حکم دے خیرات کا یا دستور کے موافق نیک کام کرنے یا بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ لوگوں میں میل ملاپ کرانے کا اور جو ایسا کرے مَرْضَاتِ اللهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيْمان گا اللہ ہی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تو ہم اس کو بہت بڑا اجر دیں گے۔وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ١١٦۔اور جو عداوت کرے رسول کی بعد اس کے کہ اس پر ہدایت کھل چکی اور مومنوں کے الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِينَ خلاف راہ چلے تو ہم اسے اُدھر چلائیں گے وہ تُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ جدھر پھرا ہے اور اسے پہنچا دیں گے جہنم میں اور ے وہ کیا ہی بُری جگہ ہے جانے کی۔دُونَ ذلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۖ وَمَنْ تُشْرِكْ بِاللهِ مَصِيرَان إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا ۱۱۷ - اللہ یہ تو معاف نہیں کرتا کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک کیا جاوے اور اس کے نیچے کے گناہ کی مغفرت کرتا ہے جس کو چاہے اور جو اللہ کا فَقَدْ ضَلَّ ضَللًا بَعِيدًا شریک کرلے وہ دور دراز گمراہی میں جاپڑا۔إن يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَّا وَاِنْ ۱۱۸۔یہ مشرک اللہ کے سوا دیویوں کو ہی پکارتے آیت نمبر ۱۱۷ - اَنْ يُشْرَك - شرک کی جڑ کسی کو علیم وخبیر جاننے سے پیدا ہوتی ہے۔علیم جاننے کی وجہ سے تو پکارے جاتے ہیں اور متصرف و خیر جاننے کی وجہ سے مانگتے ہیں۔ریا بھی ایک قسم کا شرک ہے اور اس شرک کے بعد قرآن میں جھوٹ کا بیان آتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (الحج: ۳۱) میں ہے۔اللہ تعالیٰ شرک کو بہت بُرا جانتا ہے اس سے جہالت پیدا ہوتی ہے۔بچے اسباب چھوٹ جاتے ہیں اور بچے نتائج نہیں پیدا ہو سکتے اور تفرقہ بھی اسی سے پیدا ہوتا ہے۔اللہ کی ذات وصفات و افعال میں کسی کو ہمتا سمجھنا۔اللہ کی عبادت و تعظیم کی طرح کسی کی عبادت کرنا۔یہ چوتھی قسم کا شرک دنیا میں بہت پایا جاتا ہے اور اسی کے دور کرنے کے لئے کل انبیاء آئے (نوٹ ) ایک شریک فی العادت ہوتا ہے۔آیت نمبر ۱۱۸۔انشا۔عرب اور ہند کے بُت پرست اپنے جھوٹے معبودوں کے نام مؤنث ہی رکھتے ہیں جیسے کالی بہوانی۔ما تا رانی۔کچھی ولات وغزی ومئات وغیرہ دیویاں۔