اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 199 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 199

والمحصنته ۱۹۹ الناء الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللهَ عَنْهُمْ يَوْمَ زندگی میں جھگڑا کرتے ہیں چوروں کی طرف سے۔پھر کون جھگڑے گا اللہ سے اُن کی طرف سے قیامت کے دن یا ان کا کون وکیل بنے گا۔الْقِيِّمَةِ أَمْ مَنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ۔اور جو کوئی بُر اعمل کرے یا اپنے نفس پر ظلم يَسْتَغْفِرِ الله يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيْمان کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو پاوے گا عیبوں کا ڈھانپنے والا کچی محنت کا بدلہ دینے والا۔وَمَنْ يَّكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى ۱۱۲۔اور جوکوئی گناہ کماوے تو وہ اپنے ہی لئے کماتا نَفْسِهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ہے اور اللہ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔وَمَنْ يَّكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ ۱۱۳۔اور جو کماوے کسی خطا یا گناہ کو پھر اس کو بَرِيْئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًان کسی بے گناہ کے سر تھوپ دے تو اس نے اٹھایا है بڑا بہتان اور صریح گناہ۔وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ ۱۱۴۔اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تجھ پر نہ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا ہوتی تو ایک جماعت نے ان میں سے قصد کر لیا تھا کہ تجھے راہ سے ہٹا دیں اور وہ راہ سے نہیں يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ بٹاتے مگر اپنے ہی کو اور تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ مِنْ شَيْءٍ وَاَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَبَ سکتے اور اللہ نے تجھ پر کتاب نازل کی اور دانائی وَالْحِكْمَةَ وَعَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ کی باتیں اور تجھے سکھا دیا وہ سب کچھ جوتو نہیں جانتا تھا اور تجھ پر اللہ کا بہت ہی بڑا فضل ہے۔وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا لَا خَيْرَ فِى كَثِيرٍ مِنْ نَّجْوابِهُمْ إِلَّا مَنْ ۱۱۵۔وہ جو کانوں میں بہت باتیں کرتے ہیں آیت نمبر ۱۱۴ - اَنْ تُضِلُّوک۔وہی طعمہ اور اس کے اقارب نے جھوٹی قسموں اور شہادتوں سے یہودی پر جھوٹی سزا کا حکم جاری کروا ہی دیا تھا اگر فضل خدا کا اس کے حال سے تجھے مطلع نہ کرتا۔انشاء اللہ آئندہ بھی تجھے کوئی دھوکہ نہ دے سکے گا۔الْحِكْمَةَ - سنت و اخلاق اور حدیث۔آیت نمبر ۱۱۵۔مِنْ نَّجُوبُهُمْ۔منافق آنحضرت ﷺ سے اپنا اعتبارلوگوں میں جمانے کے واسطے کان میں باتیں کرتے جو منع کیا گیا۔