اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 196 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 196

والمحصلته ١٩٦ النساء الله بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ کر کے پھر اس کو موت آملاوے تو اُس کا ثواب يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ اللہ کے ذمہ ثابت ہو چکا اور اللہ بڑا عیبوں کا ڈھانپنے والا اور سچی محنتوں کا بدلہ دینے والا ہے۔وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًان وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ ۱۰۲۔اور جب تم سفر کرو ملک میں تو کچھ گناہ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوةِ نہیں تم پر اس میں کہ نماز میں سے کچھ کم کر دو جب تم کو ڈر ہو کہ کا فرتمہیں ستائیں گے۔اِن خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بے شک کا فر تمہارے کھلے کھلے دشمن ہیں۔إِنَّ الْكَفِرِيْنَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا وَإِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلوةَ ۱۰۳۔اور جب تو اُن میں موجود ہو اور اُن کو نماز (بقیه حاشیه ) مُهَاجِرًا إلى الله۔ہجرت کرنے والا اللہ تعالیٰ کے اسماء غفور اور رحیم کے سایہ میں آ جاتا ہے اور اس کو جزائے نیک دینا اللہ پر ضروری ہو جاتا ہے۔آیت نمبر ۱۰۲ - اَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوةِ - قصرِ صلوٰۃ کا مسئلہ جہاد کا نضمن ہے اور عام طور پر ہر ایک سفر کا۔بنی نجار کے چند لوگوں نے عرض کیا کہ حضور اکثر ہم کو تجارت وسفر وغیرہ کرنے کا اتفاق ہوتا ہے تو کیوں کر نماز پڑھیں اُسی وقت قصر کا کم إِذَا ضَرَ تُم سے مِنَ الصَّلوۃ تک نازل ہوا۔اس کے ایک سال بعد صلوۃ خوف کا حکم نازل ہوا ( مَظْهَرُ الْعَجَائِبِ لُبَابُ التَّقُول ) محققین نے کمی کی مختلف صورتیں بتائی ہیں۔(۱) رکوع و سجود کی جگہ صرف اشارہ کر دینا۔نماز میں ہتھیار چلاتے رہنا اور چلنا۔خون آلودہ کپڑوں سے نماز پڑھ لینا۔محن طاؤس و عبد اللہ بن عباس (۲) چار رکعت والی نماز کو دورکعت پڑھنا با تفاق جمہور صحابہ و تابعین (۳) بجائے دو رکعت کے خوف کی جگہ میں ایک ہی رکعت پڑھنا۔مذہب جابر ابن عبد اللہ مع ایک جماعت۔یہ قصر خوف ہے اور عام سفروں میں جن میں خوف نہ ہو چار رکعت کی بجائے دو رکعت پڑھیں۔جمہور ائمہ مجتہدین کے نزدیک درست ہے۔سنت و نفل کچھ نہیں اور یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قصر کے تین طور ہیں (۱) چار رکعت کی دو رکعت (۲) ظہر و عصر، مغرب وعشا کی جمع (۳) قراءت کم کر دے۔اِن خِفْتُم۔یہاں تک صَلوةُ الْمُسَافِر کا بیان تھا۔اس کے بعد سے رکوع تک صلوةُ الخوف کا ذکر ہے۔