اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 193
والمحصلته ۱۹۳ النساء إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ مقتول کے وارث معاف کر دیں (تو خیر ) پھر اگر مقتول ایسی قوم میں کا ہو جو تمہاری دشمن ہے عَدُونَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ اور وہ خود ایماندار ہو تو صرف ایک مومن غلام مُّؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمُ آزاد کرے اور اگر وہ ایسی قوم میں کا ہو کہ تم میں وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقَ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِم اور ان میں مضبوط عہد ہو تو خون بہا ضرور پہنچا دینا وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ چاہنے مقتول کے وارثوں کو اور ایک ایماندار غلام بھی آزاد کرنا چاہئے۔جس کو غلام آزاد کرنے کا فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ مقدور نہ ہوتو وہ دو مہینے کے لگا تار روزے رکھ لے یہ اللہ کی طرف سے توبہ کا طریقہ بتایا گیا ہے اور اللهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا اللہ ہی بڑا جاننے والا اور بڑا حکمت والا ہے۔وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ ۹۴۔اور جو کوئی مار ڈالے کسی ایمان دار کو جان جَهَنَّمُ خُلِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ بوجھ کر تو اس کی جزا جہنم ہے رہ پڑے اُس میں ہمیشہ اور اُس پر اللہ غضب ناک ہوا اور اس کو وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا در بدر کیا اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کیا۔(بقیہ حاشیہ ) شبه عمد میں دی جاتی ہے یہ ہے یعنی سو اونٹ یا ہزار اشرفیاں یا بارہ ہزار درہم۔سو اونٹ میں سے تمہیں جوان ہمیں قریب بہ جوانی، چالیس گا بھن اونٹنیاں۔احادیث سے پانچ قسم کے قتل معلوم ہوتے ہیں ایک عمد جس کا قاتل مارا جانے کا اور جہنم میں جانے کا مستحق اور مقتول کی میراث سے محروم ہے۔دوسرے قتل خطا جس کا قاتل ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دِيَّتِ مُخَفَّفَہ دے۔تیسرے قتل شِبُهُ بِالْعَمُدِ جس کی سزا دِيَّتِ مُغَلَّظ ہے اور میراث سے محرومی۔چوتھے قائم مقام قتل خطا جس کی سزا مثل خطا قتل کے ہے۔پانچویں قتل بِالسَّبَبُ اس کی سزا دیت ہے نہ کفارہ نہ حرمان اور صرف امام شافعی کے نزدیک کفارہ اور حرمان ہے۔آیت نمبر ۹۴ - فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ۔چونکہ قرآن شریف میں لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ الحَ النِّسَاء: ۴۹) موجود ہے تو آسان طریق ہے کہ شریعت اسلام پر غور کریں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلام وہ راہ ہے جس سے اسباب جنت و موانع جنت یا اسباب دوزخ و موانع دوزخ معلوم ہو جاتے ہیں۔جب اسباب وموانع جمع ہوں تو وزن کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد ہے وَالْوَزْنُ يَوْمَينِ الْحَقُّ (الاعراف : ٩) کیونکہ برائیاں نیکیوں کے ساتھ ہیں تو تو لی جائیں گی اور غلبہ کا اعتبار ہوگا اور محض نیکی والے بغیر حساب جنت میں جاویں گے اور محض برائیوں والے بے پوچھے جہنم میں جانے والے ہیں۔