اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 13
۱۳ البقرة ٢ وَ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ ۳۱۔اور (اے پیغمبر وہ کیفیت بھی بیان کرو) جب في الْأَرْضِ خَلِيفَةً - قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا ج تیرے رب نے کہا فرشتوں سے کہ میں خاص زمین میں ایک نائب حاکم بنانے والا ہوں، فرشتوں نے مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدَّمَاءَ عرض کی، کیا آپ ایسے شخص کو نائب بنائیں گے وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ زِمین میں جو وہاں فتنہ انگیزی اور خون ریزی کرے گا اور ہم تو تیری تعریف کے ساتھ کہتے b قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) ہیں ہے کہ تیری ذات پاک خوبیوں ہی خوبیوں والی اور سب عیبوں سے پاک ہے۔اللہ نے فرمایا ، میں وہ بھید خوب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ا منتظم۔دوسرے کا قائم مقام ، نائب۔یہ ایک سوال تو ہے مگر آپ کو عیب سے بکلی پاک جانتے ہیں۔آیت نمبر ۳۔وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ۔اب ہر سہ گروہ کا ذکر تمثیلی رنگ میں ہوتا ہے۔سُوْرَةُ الحَمد میں حسن و احسان کا بیان تھا۔حسنِ تام اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں بیان کیا گیا اور الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں احسانِ کامل کا ذکر تھا جس سے روح انسانی متاثر ہوکر ہمہ نیستی کے ساتھ اس جمیل ومحسن حقیقی کے سامنے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر گر پڑی اور اس سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ منعم علیہ جماعت نے طلب کی تو خدا نے بعد اس رہ نمائی کے اس آیہ شریفہ میں ایک منعم علیہ کا ذکر فرمایا جو آدم ہے اور اس کے ساتھ اپنے فضل اور وحی و الہام اور اس کی اتباع اور اس کی دائمی کامیابی کا بیان فرمایا اور اس کے مقابل اس کا مخالف جو مغضوب ہے۔ابلیس بتایا اور بھولے بھالے راست باز معترضین اور سائلین کو فرشتوں سے تشبیہ دی جو ایک قسم کی ضلالت رکھتے تھے۔یہ اس قسم کی ضلالت ہے جیسا کہ سورة وَالضُّحى میں وَوَجَدَكَ ضَائًا فَهَدی - عاشقانہ گمراہی اور دینداری کا جوش۔یہاں اور تمام قرآن مجید میں جب کبھی کسی مامور یا خلیفہ کا ذکر ہوگا تو وہاں مراد ہمارے حضور سید المرسلین شفیع المذنبين ، خاتم النبيين غالباً ہوں گے اور آپ کے مخالف ابلیس۔ابو جہل۔صاحب جہل مرکب اور سائلین و معترضین ضالین مراد ہوں گے۔کیا خوب کہا حضرت معنوی نے اپنی مثنوی میں خوش تر آن باشد که سر دلبراں گفته آید در حدیث دیگراں اِنّى اَعْلَمُ کا ثبوت وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء سے دیا یعنی ہمارے تعلیم یافتہ ہی ہماری مرضی جانتے ہیں دوسرا نہیں جانتا۔