اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 12
۱۲ البقرة ٢ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهَ إِلَّا الْفَسِقِينَ لاتا ہے اس سے بہتوں کو اور وہ تو گم راہ نہیں کرتا اس سے کسی کو مگر بد کار گم راہ ہوتے ہیں )۔الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِه ۲۸- جو لوگ توڑتے ہیں اللہ کے اقرار کو شریعت وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِمَ أَنْ يُوصَلَ کے مضبوط ہونے کے بعد اور اُن سے جدائی چاہتے ہیں جن سے ملنا اللہ پسند کرتا ہے اور ملک وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَيكَ هُمُ میں شرارت کرتے ہیں یہی لوگ نقصان میں ہیں۔الخسِرُونَ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا ۲۹ تم کس طرح منکر ہوتے ہو اللہ کے حالانکہ تم فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ تھے ہی نہیں تو اس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں مارے گا لے پھر مرے بعد تمہیں آخرت میں ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ اٹھائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْأَرْضِ ۳۰۔وہی اللہ ہے جس نے زمین کی سب کی سب چیزیں تمہارے ہی واسطے پیدا کیں پھر متوجہ جَمِيْعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّنَهُنَّ ہوا آسمان کی طرف تو ٹھیک بنا ڈالے انہیں سات سَبْعَ سَمُوتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ آسمان اور وہ ہر ایک چیز کا بڑا جانے والا ہے۔ے۔اندازہ کیا تمھارے لئے کیونکہ قیامت تک خلق ہوگی۔(بقیہ حاشیہ) فتوحات شام وغیرہ۔اگر اللہ تعالیٰ اجمالاً بیان کرے تو بھی ایمان داروں کو موجب ایمان ہے اور تفصیلاً ہو جب بھی موجب انشراح صدر ہے۔مچھر کی مثال قرآن شریف میں کہیں نہیں آئی ہے۔باب اعتصام بالسنۃ میں ہمارے حضور سید المرسلین خاتم النبیین صاحب معراج نے فروش سے تشبیہ دی ہے اور اپنے کو اُن کا ناجی بتایا ہے۔بعض مفسروں نے کہا یہاں بَعُوضَةً سے پتنگوں کی طرف اشارہ ہے وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔آیت نمبر ۳۰ - سبع سموات۔سات آسمان یا سات تارے یا سات قسم کے تارے ہیں اور دوسرے اعتبارات یعنی علم جغرافیہ اور ہیئت اور فلاحت اور روحانی اور عالم مثال اور عالم آخرت اور جنت و دوزخ کے اعتبار سے بھی سات سات آسمان ثابت ہیں۔اسی طرح زمینیں بھی۔