اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 188 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 188

والمحصنته ۱۸۸ النساء ٤ وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ ۸۲۔وہ کہتے ہیں ہم تیرے فرماں بردار ہیں پھر جب تیرے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ایک b عِنْدِكَ بَيَّتَ طَابِفَةٌ مِنْهُمْ غَيْرَ جماعت اُن میں کی رات کو خفیہ منصوبے کرتی الَّذِي تَقُولُ وَاللهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ہے اُس کے خلاف جو تیرے سامنے کہتی تھی فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ ۖ اور اللہ نوٹ کر لیتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے جو کچھ وہ راتوں کو منصوبے کرتے ہیں تو تو اُن سے منہ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلًا پھیر لے اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھ اور اللہ ہی کارساز بس ہے۔أفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ ۸۳ کیا وہ قرآن میں گہری فکر اور تدبر نہیں کرتے کیونکہ اگر وہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔صلى الله اخْتِلَافًا كَثِيرًا آیت نمبر ۸۲ - وَكَفَى بِاللهِ وَکیلا۔یعنی منافقوں کے منصوبے اور غلط بیانات تجھے کچھ ضرر نہیں دیں گے۔آیت نمبر ۸۳- اِخْتِلَافًا كَثِيرًا۔اختلاف تو وعدہ وعید میں ہوتا ہے مگر کثیر نہیں۔اختلاف نہ پائے جانے کے مواقع (۱) جب رسول کریم ﷺ مکہ میں تھے محکومی کی حالت تھی۔باہر تشریف لے گئے۔حاکم بنے مگر طرز و رنگ و ادا وہی ہے یعنی ۲۳ برس کی ترقی کے بعد بھی کلام ابتدائی کلام کی حالت سے نہ بدلا کیونکہ قرآنی سلسلہ جو رسول کریم ہے کا کارنامہ ہے ایک ہی سلسلہ میں ہے۔(۲) جب اکھڑ جاہلوں سے مقابلہ تھا تو بھی وہی رنگ رہا پھر جب علمائے یہود و مجوس وغیرہ اقوام سے مباحثہ ہوا تو بھی وہی رنگ رہا۔قرآنی مباحثہ میں کہیں انکسار اور عاجزی کے الفاظ نہیں جو انسانی کمزوری اور جہالت پر دلالت کرتے ہیں۔(۳) جو اقوال جہلاء کے سامنے جن کی نظر قانونِ قدرت پر نہ تھی پیش فرمائے وہی حکمائے روشن خیال کے سامنے پیش کئے۔(۴) طبعیات و سائنس کی بہت ترقی ہوئی مگر نہ بدلا تو کلام الہی یعنی واقعہ ثابت شدہ نے قرآنی کسی حصہ کا ابطال نہیں کیا۔(۵) رسول کریم نے جو احباب کی ترقی اور دشمنوں کے زوال کی پیشینگوئیاں فرمائی تھیں وہ پوری ہو گئیں اور ہوتی ہیں اور ہوں گی۔(1) جھوٹے اور نیچے دونوں منجانب اللہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں مگر استقلال اقوال اور اختلاف اقوال اور انجام محمود و نا محمود ہو کر ان کا حق والا اور ناحق والا ہونا ثابت کرتا ہے۔(۷) کامیابی اور قبولیت عامہ بھی حاصل ہوتی ہے۔(۸) مذاہب اور سلاطین اور ملکوں اور قوموں