اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 187
والمحصلته وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا 1^2 النساء اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے اور تم پر تو کچھ بھی ظلم نہ ہوگا فتیل برابر۔أَيْنَ مَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ 9۔تم کہیں بھی ہو تم کو موت آ پکڑے گی گو کہ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ وَإِنْ تُصِبْهُمْ تم مضبوط گنبدوں میں ہو۔اگر ان کوکوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ اللہ ہی کی حَسَنَةٌ تَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَإِنْ طرف سے ہے اور اگر اُن کو کوئی نقصان پہنچ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِكَ جائے تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تیری ہی طرف قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللهِ فَمَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ سے ہے۔تم کہو کہ سکھ دُکھ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے تو اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ بات لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثَانَ کی سمجھ کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللهِ وَمَا ۸۰ تجھ کو جو کچھ بھلائی پہنچی وہ تو اللہ کی طرف أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ سے ہے۔اور (جو ) تجھ کو کچھ برائی پہنچے وہ تیرے ہی نفس کی طرف سے ہے۔اور ہم نے وَاَرْسَلْنَكَ لِلنَّاسِ رَسُولاً وَكَفَى بِاللهِ تجھ کو رسول بنا کر بھیجا لوگوں کے لئے اور اس بات پر اللہ ہی کی گواہی بس ہے۔شهيدان مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ وَمَنْ ۸۔جس نے رسول کا حکم مانا اور اس کی اطاعت کی بے شک اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًان منہ پھیرا اور رسول کی اطاعت نہ کی ( تو وہ خود خراب ہوا) کچھ ہم نے تجھ کو ان پر پاسبان بنا کر نہیں بھیجا۔آیت نمبر ۷۹۔كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللهِ۔سے صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ خیر وشر کے دوالگ الگ خدا نہیں۔آیت نمبر ۸۰۔فَمِنَ اللهِ۔پہلی آیت میں اور دوسری آیت میں کوئی تناقض و اختلاف نہیں کیونکہ پہلی آیت کا مقصد یہ ہے کہ وہ نیکی کو اللہ کی طرف اور دکھ کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے تھے جو ان کو پہنچتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ یوں فرمایا کہ ہر ایک حالت دکھ ہو یا سکھ اس کا پہنچنا اور اس کا اجر دربار الہی سے ہوتا ہے اور عموماً سکھ کا باعث تو فضل الہی ہے اور دکھ کا باعث انسانی کرتوت۔یہی دوسری آیت کا مقصد ہے۔شهیدا۔یعنی تجھ میں کمالات نبوت سب موجود ہیں۔آیت نمبر ۸۱ - حَفِيْظًا۔نگہبان۔پہرے والا (مطلب یہ ) کہ تو نے ان کی کیوں نہ حفاظت کی۔