اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 175
والمحصلته ۱۷۵ النّاء ٤ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبى کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ رشتہ داروں اور یتیموں اور بے کسوں اور قرابت دار پڑوسیوں وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى اور اجنبی پڑوسیوں اور پاس بیٹھنے والے رفیقوں وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ اور بیبیوں اور مسافروں اور غلام باندیوں اور وَابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ جانوروں کے ساتھ جو تمہارے قبضہ میں ہوں نیک سلوک کرو۔بے شک اللہ اُن کو دوست نہیں إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَا لَّا فَخُورَا رکھتا جو اتراتے اور بڑائی مارتے پھرتے ہیں۔الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۳۸۔یہ وہ لوگ ہیں جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کو کہتے ہیں اور اللہ نے وَيَكْتُمُوْنَ مَا أَتُهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ اُن کو جو کچھ اپنی مہربانی سے دیا ہے اُسے چھپاتے وَاعْتَدْنَا لِلْكُفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينان ہیں اور ہم نے تیار کر رکھا ہے حق چھپانے والوں کے لئے ذلت کا عذاب۔(بقیہ حاشیہ) (۳) الْحِفْظُ لِلْحُدُودِ (۴) وَالصَّبْرُ عَلَى الْمَفْقُوُد وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا الآية ( النساء: ۳۷)۔اس آیت میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بلکہ حقوق ماسوی الانسان کا سب کا بیان ہے کیونکہ انسان ان سات حالتوں سے باہر نہیں نکل سکتا اسی طرح وہ حیوان بھی جو انسان کے ساتھ رہتا ہے۔وَالْجَارِ الْجُنُبِ۔جَارِ الْجُنُبِ میں مذہب کی قید نہیں۔وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ - کلاس فیلو۔ہم پیشہ۔رفیق سفر۔ایک کارخانہ والے یا محکمہ والے۔خاص کمپنیوں اور کمیٹیوں کے لوگ وغیرہ سب مراد ہیں۔مُختَالًا۔خود پسند۔فَخُورًا۔بڑا شیخی باز۔یعنی اپنی بڑائی اور بزرگی کے نشہ میں مغرور ہو کر ظلم اور بتی نہ کرے بلکہ اللہ کے علو اور کبریائی کو یاد کرے اور دیکھے کہ وہ کیسا حلیم و غفور الرحیم ہے۔آیت نمبر ۳۸۔وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبَخْلِ - بخل کی ایک قسم شخ ہے جو دوسرے کے دینے کو بھی نا پسند کرتا ہے اور وہ ذلت میں گرفتار رہتا ہے۔عَذَابًا مُّهِيْنا۔ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب۔