اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 170
والمحصلته 12 • الناء بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِينَ قابو میں لانے والے ہو نہ متعہ اور نیوگ کرنے فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَاتُوهُنَّ والے شہوت رانی کے لئے۔پھر جن عورتوں سے تم نے فائدہ اٹھایا مہر ٹھہرا کر تو دے دو ان کو ان ورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ کے مہر جو ٹھہرایا تھا اور تم پر کچھ گناہ نہیں اس قِيمَا تَرْضَيْتُم بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ بات میں کہ جس میں تم آپس میں راضی ہو جاؤ مہر ٹھہرانے کے بعد بے شک اللہ بڑا خبر دار بڑا إنَّ اللهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا حکمت والا ہے۔وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يُنْكِحَ ٢٦ - جس کو تم میں سے مالی طاقت اتنی نہ ہو کہ وہ الْمُحْصَنَتِ الْمُؤْمِنَتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ حفاظت میں رہنے والی عزت دار اور ایمان والی عورتوں سے نکاح کر سکے تو لونڈیوں ہی سے کر أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيْتِكُمُ الْمُؤْمِنَتِ وَاللهُ لے اپنی ایمان دار چھوکر یوں میں سے۔اور اللہ أَعْلَمُ بِإِيْمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ خوب جانتا ہے تمہارا ایمان۔تم آپس میں ایک ہی (بقیہ حاشیہ ) حالت کفر میں موجود ہوں ان کا تعلق نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔اور وہ عورتیں بھی مراد ہیں جن کو مہر دے چکے۔كِتُبَ اللهِ عَلَيْكُمْ۔اللہ کا تحریری حکم ہے کہ مذکورہ عورات سے نکاح نہ کریں اور یہ عورتیں بھی حرام ہیں (۱) پھوپھی اور بھتیجی اور (۲) خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں (۳) لعان والی مرد پر کبھی حلال نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ واقعی ثبوت نہ ہو جائے (۴) حُرَّہ پر کنیز (۵) با وجود طاقت حُرہ کے کنیز سے نکاح کرنا (1) غیر کی معتدہ سے۔أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ۔مذکورہ عورات کے سوا سب حلال ہیں۔تَبْتَغُوا۔ایجاب قبول ہو۔أَمْوَال۔مہر ہو۔مُحْصِنِينَ۔نکاح کی ہوں۔متعہ کی داشتہ وخواص و رنڈی وبے نکاحی نہ ہوں۔فيمَا تَرضَيْتُمْ یعنی مہر کی مقدار میاں بیوی گھٹا بڑھا لیں تو مضائقہ نہیں۔آیت نمبر ۲۶ - طولاً - قدرت - طاقت۔