اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 167
لن تنالوا ٤ النساء وَالَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَابِكُمْ ۱۶۔اور مسلمانو! تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان ( کی فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ بدفعلی پر اپنے لوگوں میں سے چار کی گواہی لو شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى پس اگر گواہ ( اُن کی بدکاری کی تصدیق يَتَوَقُهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ کریں تو سزا کے طور پر ) اُن (عورتوں) کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت اُن کا سَبِيلًا کام تمام کر دے یا اللہ اُن کے لئے کوئی (اور) راستہ نکالے۔وَالَّذِنِ يَأْتِينِهَا مِنْكُمْ فَأَذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا ۱۷۔اور جو دو شخص تم لوگوں میں سے بدکاری کے وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا إِنَّ اللهَ كَانَ مرتکب ہوں تو ان کو مارو پیو۔پھر اگر تو بہ کریں اور اپنی حالت کی اصلاح کر لیں تو ان سے (اور تَوَّابًا رَّ حِيْمان زیادہ تعرض نہ کرو۔کیونکہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ۱۸ اللہ تو بہ قبول کرتا ہی ہے (مگر) انہی لوگوں السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ کی جو نادانی سے لے کوئی بُری حرکت کر بیٹھے پھر جلدی سے توبہ کر لی تو اللہ بھی ایسوں کی توبہ قبول فَأُولكَ يَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ الله کر لیتا ہے اور اللہ سب کا حال جانتا (اور دنیا اور دین کی مصلحتوں سے ) واقف ہے۔عَلِيمًا حَكِيمًا وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ۱۹۔اور اُن لوگوں کی تو بہ قبول نہیں جو ( عمر بھر ) السَّيَّاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ بُرے کام کرتے رہے یہاں تک کہ اُن میں سے جب کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہو تو لگے کہنے ا نفس امارہ کی مغلوبیت سے نہ گناہ کی نا واقعی سے۔آیت نمبر ۱۶ - وَاثْتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ - سورہ نساء میں حد زنا بیان فرمائی۔ایسی عورتوں کے لئے پردہ کا بڑھا دینا کہ غیروں سے ان کا خلا ملا نہ ہو۔یا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سورہ نور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے تا کہ وہ گناہ سے بچیں۔