اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 166
لن تنالوا ٤ ۱۶۶ النساء ٤ ج آج اَوْ أُخْتُ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نہ ہو اور اس کے بھائی یا بہن ہوں تو اُن میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ایک تہائی میں (برابر کے) سب شریک ( یہ حصے فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ بھی) میت کی وصیت ( کی تعمیل ) اور (ادائے) يُوطى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍ قرض کے بعد (دیے جائیں) بشرطیکہ میت نے (کسی کو) نقصان نہ پہنچانا چاہا ہو ( یہ ) فرمان الہی طط وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ہے اور اللہ (سب کچھ) جانتا (اور لوگوں کی نا فرمانیوں پر ) برداشت کرتا ہے۔تِلكَ حُدُودُ اللهِ وَمَنْ تُطِعِ الله ۱۴۔یہ اللہ کی (باندھی ہوئی ) حدیں ہیں اور جو وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ اللہ اور اس کے حکم پر چلے گا ( آخرت میں ) اس کو اللہ (بہشت کے ) ایسے باغوں میں لے جا تَحْتِهَا الْأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں (پڑی) بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں الْفَوْزُ الْعَظِيمُ گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔وَمَنْ يَعْصِ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ ۱۵۔اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی (باندھی ہوئی ) حدوں سے بڑھ چلے حدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ ( تو اللہ ) اس کو دوزخ میں (لے جا) داخل کرے گا ( اور وہ) اس میں ہمیشہ ( ہمیشہ ) رہے عَذَابٌ مُّهِينٌ گا اور اس کو ذلت کی مار دی جائے گی۔(بقیه حاشیه ) له اخ او اخت۔ان سے مراد وہ ہیں جو صرف ماں کی طرف سے بھائی ہوں نہ باپ کی طرف سے۔اس پر تین قرینہ ہیں۔اول جو اعلی قسم کے وارث ہیں ان کو اس رکوع میں مقدم کیا گیا ہے وہ وُرَثَاءِ نَسبی ہیں۔اس سے دوسرے نمبر پر وُرَثَاءِ گسُبی کا بیان ہے جن سے انسان خود تعلق کرتا ہے۔بوساطت زوجیت۔تیسرا۔سگے بھائیوں اور سوتیلے بھائیوں کا ورثا سورہ نساء کے آخر میں بیان کیا گیا ہے۔اس آیت میں برادری صرف بھائیوں کے متعلق ہے۔چوتھا وصیت وارث کے لئے نہیں ہونی چاہئے اور تہائی سے زیادہ جائز نہیں۔چوتھے تک وصیت کو رکھنا بہتر ہے۔آیت نمبر ۱۵ - لَهُ عَذَابٌ مُّهِين۔مسلمان کی ذلت کا ایک یہ بھی باعث ہے کہ تقسیم وراثت میں احتیاط سے کام نہیں لیتے۔