اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 157
لن تنالوا ٤ ۱۵۷ ال عمران ۳ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا آتَوُا ۱۸۹۔اور جو لوگ اپنے کئے سے خوش ہوئے اور کیا ( کرایا تو کچھ بھی ) نہیں اور اس پر چاہتے ويُحِبُّونَ اَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ہیں کہ اُن کی تعریف ہو تو (اے پیغمبر!) ایسے فَلَا تَحْسَبَنَّهُمُ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ لوگوں کی نسبت ہرگز خیال نہ کرنا کہ یہ لوگ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ عذاب سے بچے رہیں گے بلکہ اُن کے لئے عذاب دردناک (تیار موجود) ہے۔وَلِلهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالله ۱۹۰۔اور آسمان اور زمین کا اختیار و بادشاہی پنچ (سب) اللہ ہی کو ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌة اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۱۹۔کچھ شک نہیں کہ آسمان اور زمین کی بناوٹ اور رات اور دن کے رد و بدل میں عقلمندوں کے لئے وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولِى الْأَلْبَابِ اللہ کی قدرت کی بہتیری) نشانیاں موجود ہیں۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى ۱۹۲۔جو کھڑے اور بیٹھے اور پڑے پڑے جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی ساخت میں غور کرتے (اور بے اختیار وَالْأَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً بول اٹھتے ) ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے (اس کارخانہ عالم کو ) بے فائدہ (تو) نہیں سبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ بنایاہے تیری ذات پاک ہے کے تو ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو۔رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ ۱۹۳-اے ہمارے پروردگار! جس کو تُو نے اَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ دوزخ میں ڈالا اُس کو خوار کیا اور وہاں گنہ گاروں کا کوئی بھی مددگار نہیں۔لے چونکہ یہ کارخانہ خبر دے رہا ہے کہ آخرت میں نیکی کی جزا اور بدی کی سزا ہوتی ہے۔فعل عبث کے کرنے سے۔