اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 153
لن تنالوا ٤ ۱۵۳ ال عمران ۳ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا رسول کا اس کے بعد کہ ان کو پہنچ چکا تھا زخم وصدمہ تو اُن میں سے جنہوں نے نیکی کی اور مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيم اللہ کو سپر بنایا اُن کے بڑے بڑے اجر ہیں۔الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ ۱۷۴ - جن لوگوں نے کہا کہ مکہ والے لوگوں نے جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ جتھا کیا ہے تمہارے (مقابلہ کے) لئے تم ان سے ڈرو اس بات نے (ایمان داروں کا) اِيْمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ایمان بڑھا دیا اور وہ کہہ اٹھے کہ اللہ ہم کو بس ہے اور کیا ہی اچھا وکیل ہے۔فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ لَّمْ ۱۷۵۔پس یہ اللہ کے فضل وکرم سے (بخیر و يَمْسَسْهُمْ سُوءٍ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللهِ خوبی) واپس آئے ان کو کوئی زخم وصدمہ نہیں پہنچا۔اور وہ اللہ کی مرضی کی چال چلے اور اللہ بڑا افضل واعلیٰ اور مالک فضل ہے۔وَاللهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاءَهُ ۷۶۔وہ شخص جس نے آ کر خبر دی وہ شیطان ہے آکر فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ اِنْ كُنْتُمْ وہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو ایمان دارو! تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو جب تم مومن ہو۔مؤْمِنِينَ وَلَا يَحْزُنُكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي ۱۷۷۔اور تم کو غمگین نہ کریں جو شتاب کاری اور الكُفْرِ ۚ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا کوشش کرتے ہیں حق پوشی میں یہ دینِ الہی کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے اللہ چاہتا ہے کہ (حق پوشوں کو ) آخرت میں کچھ حصہ نہ دے اور اُن يُرِيدُ اللهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَقًّا لے اپنے دوستوں کو جو شیطان سیرت ہیں خوف دلاتا ہے۔شیطانی باتوں کا اثر شریروں شیطانوں پر ہی پڑتا ہے۔آیت نمبر ۱۷۵ - فَانْقَلَبُوا۔ابوسفیان نے اُحد سے واپسی کے وقت مسلمانوں سے یوں کہا۔” یہ ہم نے بدر کا بدلہ لیا مگر خاص میدان بدر میں آئندہ ان ہی دنوں میں پھر لڑائی ہو گی۔جب وہ دن آئے تو کفار نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لئے مدینہ میں آدمی بھیجا مگر مسلمان نہ ڈرے۔لڑنے کے لئے چلے گئے۔کفار بلا لڑائی کے