اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 9 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 9

۹ البقرة ٢ مُهْتَدِينَ انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں دیا اور وہ راہ یاب اور کامیاب نہ ہوئے۔مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا ۱۸۔جیسے ایک آدمی ہے جس نے آگ سلگائی أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ توجب آگ نے اجالا کیا آگ سلگانے والے کے آس پاس تو اللہ نے اُن کا نور اور وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَةٍ لَا يُبْصِرُونَ اجالا کھو دیا اور اُن کو گھٹاٹوپ اندھیروں میں عر چھوڑ دیا ، وہ کچھ دیکھتے نہیں ہیں۔۱۹۔صُمٌّ بُكُم عَلَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ١٩۔بہرے ہیں (حق سننے سے) گونگے ہیں (حق بولنے سے) اندھے ہیں (حق دیکھنے سے ) وہ پھرنے والے حق کی طرف نہیں۔↓ أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلمت ۲ - یا جیسے بادل سے برسات ہو جس میں وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِي گھٹاٹوپ اندھیریاں اور گرج اور چمک ہے، وہ أَذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھوس لیتے ہیں بجلیوں سے وَاللهُ مُحِيطٌ بِالْكَفِرِينَ موت سے ڈر کر اور اللہ نے گھیر لیا ہے کافروں کو۔يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا ٢١ - قریب ہے کہ چمک ان کی آنکھوں کی روشنی ا سَمَاء کے معنے اوپر کی جانب اور بادل۔(بقیہ حاشیہ) نفع رساں اور پائدار ہے نہ لیں گے جیسے کہ مذاہب عالم والے تاجر دیکھنے میں آتے ہیں کہ اس نفع سے بالکل بے بہرہ اور بے بضاعت ہیں سوائے متقی اہل اسلام کے جو قَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُور کارنگ رکھتے ہیں اَللَّهُمَّ اَصْلِحُ اُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ آیت نمبر ۱۸- كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا۔منافقوں کی دو قسمیں ہیں ایک اعتقادی دوسرے عملی۔پہلی مثال میں کفار منافق کو تشبیہ دی گئی ہے۔خشکی یعنی نار سے یہ اعتقادی ہیں۔اور دوسری یعنی او گصیب میں تشبیہ دی گئی ہے منافق مسلمان کو پانی سے۔یہ عملی منافق ہیں جو تمام رسم و رواجوں میں شریک رہتے ہیں۔آیت نمبر ۲۰ - يَجْعَلُونَ اَصَابِعَهُمُ۔مشکلات کے وقت کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں۔بجلی کی آواز سے ڈرنا بے کار ہے کیونکہ پہلے واقعہ ہو چکتا ہے بعد آواز آتی ہے۔