اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 8
البقرة ٢ لا وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ ۱۲۔اور جب اُن سے کہا گیا یا کہا جائے کہ ملک میں شرارت مت کرو جواب دیا ہم تو ملک کے قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ خیر خواہ ہی ہیں۔وَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ ١٣ - سن رکھو یہ ہی ہیں شریر فسادی لیکن وہ شعور بھی نہیں رکھتے۔لا يَشْعُرُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَمِنُوا كَمَا أَمَنَ النَّاسُ قَالُوا ۱۴۔اور جب ان سے کہا گیا یا کہا جائے کہ دین اسلام کی باتیں مانو جیسے لوگوں نے مانیں۔جواب دیا أنُؤْمِنُ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمُ کیا ہم مان لیں جیسے مان لی لیبیوقوفوں نے سن رکھو هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَّا يَعْلَمُونَ ) یہی ہیں کم عقل بے وقوف کے لیکن وہ جانتے نہیں۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوْا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا ۱۵ - جب ایمان داروں سے ملے کہہ دیا ہم ایمان ولا خَلَوْا إلى شَيْطِيْنِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ لا لا چکے ہیں اور جب اپنے شریر سرداروں کے پاس گئے ، کہا بے ریب ہم تمہارے ہی ساتھ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُ وْنَ ہیں۔بے ریب ہم تو صرف ہنسی میں اڑانے والے ہیں مسلمانوں کو۔اللهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي ١٢۔اللہ بھی ہنسی میں اڑاوے گا انہیں۔ابھی ان کو طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ) ڈھیل دے رہا ہے وہ اپنے بھترے اور گمراہی میں دل کے اندھے ہو رہے ہیں۔أُولَيكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّللَةَ بِالْهُدى ١٧۔یہی لوگ ہیں جنہوں نے ناکامی مول لی فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا کامیابی بیچ کر، تو اُن کی سوداگری بے سود ہوئی اور ا یعنی جنہوں نے دل سے تصدیق کی ، زبان سے اقرار کیا اور اعمال سے اپنا مومن ہونا ثابت کیا۔نہ دنیا سے آگاہ، نہ دین سے واقف اور عاقبت اندیش نہیں۔سفاہت نام ہے اضطراب کا۔باریک کپڑے کو بھی سفیہ کہتے ہیں۔آیت نمبر ۱۳۔لَا يَشْعُرُونَ۔شعور کہتے ہیں اُس فہم کو جو حواس ظاہری سے حاصل ہوتا ہے۔اسی واسطے موٹی موٹی باتیں نہ سمجھنے والے کو بے شعور کہتے ہیں یا بال برابر بھی عقل نہ رکھنے والا جو شعر سے مشتق ہے۔آیت نمبر ۱۷۔فَمَا رَ بِحَتْ تِجَارَتُهُمْ - ضالین بڑے تاجر ہوں گے مگر دینی ہدایت جو اعلیٰ درجہ کی