اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 150
لن تنالوا ٤ ۱۵۰ ال عمران ۳ ايتِهِ وَيُزَكِّيهِمُ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب پاک صاف کرتا ہے اور کتاب پڑھاتا ہے اور وَالْحِكْمَةَ ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ سمجھ کی باتیں سکھاتا ہے یقیناً وہ اس سے پہلے صلى الله (بقیه حاشیه ) وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ - پاره اول نبی کریم ﷺ اور خلفاء اربعہ وصحابہ و ائمہ عظام نے کیوں تغیر نہیں لکھی۔اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو معلم الکتاب قرار دیا گیا ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ جب آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہیں اور خصوصیت سے آپ کو معلم الکتاب قرار دیا گیا ہے تو آپ کو ایک تغیر لکھنی چاہئے تھی جو آپ کے علوم اور تعلیمات کا خزانہ ہوتی اور اولین و آخرین کے لئے تبصرہ ہوتی۔اگر یہ کہا جائے کہ باوجود ایسی ضرورت کے آپ نے اس کام کو اس لئے نہ کیا کہ وحی متلو و غیر متلو مخلوط نہ ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ متن اور شرح کو الگ الگ بتا سکتے تھے۔اگر یہ کہا جائے کہ آپ کو اتنی فرصت نہ تھی اصل مدعا تعلیم تھا وہ آپ نے صحابہ کو دی تو پھر صحابہ میں سے بھی خلفاء اربعہ اور فقہاء عظام وغیرہ حضرات مقدس تفسیر لکھ دیتے۔اگر ان میں سے کسی کو فرصت نہ تھی تو تابعین میں سے یا تبع تابعین، ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین وغیرہ سے کوئی اس کام کو سرانجام دیتا۔اس تفسیر نویسی کے ترک کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے قوم پر تین طرح کا احسان کیا۔(۱) اوّل قرآن کریم اتنے علوم پر مشتمل ہے کہ اس کے تمام حقائق مکنونہ کا اظہار دفاتر عظمی کا مستدعی ہے اگر وہ سب کچھ لکھ جاتے تو اتنے بڑے دفاتر کی حفاظت بہت مشکل ہوتی اور اکثر عقول ان حقائق کے ادراک سے قاصر رہتے۔(۲) دوسرے احسان یہ ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو تدبر فی القرآن اُٹھ جاتا۔قوم کی عقلیں قرآن میں بودی ہو جاتیں۔(۳) تیسرا اگر وہ ایسا کرتے تو قرآن کریم تو قیامت تک کی ضروریات کے لئے ہے جس سے ہر زمانہ کے لئے استخراج مسائل اجتھاد سے ہوتا ہے جو کہ مجتهدین کے لئے موجب ثواب ہے۔یہ مجاہدہ جو اجر عظیم کا باعث ہے اس سے لوگ محروم ہو جاتے۔اصل میں تفسیر انہوں نے اس لئے نہ کھی کہ وہ فیضانِ الہی کو اپنے اندر اور اپنے زمانہ میں محصور نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ جانتے تھے کہ اس اُمت میں مجد دین، اولیاء، ائمہ پیدا ہوں گے جو اسلام کے لئے بطور زمانہ بہار کے ہوں گے۔ان کے وقت میں قرآن کا باغ نئے پھل اور پھول دکھلائے گا جیسا کہ ارشاد كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبِّهَا الخ (ابراهیم: ۲۵) سے ثابت ہے۔جَزَاهُمُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء - اِن كَانُوا - جو اِن کہ اس کے بعد اَفْعَالِ نَاسِخہ میں سے کوئی ہو اور اس کی خبر لام مفتوح ہو وہ ان ، إِنَّ سے مخفف ہوتا ہے اور اس کے معنی تاکید کے ہوتے ہیں اگر کے نہیں ہوتے۔