اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 149 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 149

لن تنالوا ٤ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۱۴۹ کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔ال عمران ۳ وَمَا كَانَ لِنَبِيَّ اَنْ يَغُلُّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ ۱۶۲۔اور کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت اور چوری کرے اور جو کوئی خیانت اور چوری کرے بِمَاغَلَّ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ ثُمَّ تُوَ فى كُلُّ نَفْسٍ گا تو قیامت کے دن وہ چوری کی چیز لے آئے ما كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) گا پھر ہر ایک شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلا دیا جاوے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللهِ كَمَنْ بَاءَ ۱۶۳۔بھلا جو شخص اللہ کی مرضی کا پیرو ہوا اس بِسَخَطٍ مِنَ اللهِ وَ مَاؤُهُ جَهَنَّمُ کے جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں آ گیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوا اور وہ بُرا ٹھکانا ہے۔وَبِئْسَ الْمَصِيرُ حبُّ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ بَصِيرٌ بِمَا ۱۶۴۔وہ درجات ہیں اللہ کے نزدیک اور اللہ دیکھ رہا ہے اُن کے اعمال کو۔يَعْمَلُونَ لَقَدْ مَنَ الله عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ ۱۲۵۔بے شک اللہ نے مومنوں پر احسان کیا یہ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ جو بھیج دیا اُن میں ایک رسول انہیں میں سے اور وہ پڑھ کر سناتا ہے اُن کو اللہ کی آیتیں اور ان کو آیت نمبر ۱۶۲ - اَنْ تَغُل۔وہ لوگ جو عبداللہ ابن جبیر کے ماتحت دڑہ کے انسداد پر مامور تھے وہ اس خیال سے اپنا مقام چھوڑ بھاگے کہ کہیں ہمارا حصہ غنائم سے مفقود ہی نہ ہو جائے ان کو تنبیہ کی ہے کہ غنائم کا مہتم نبی ﷺ ہیں۔وہ کسی کا حق دبا سکتے ہیں یا رکھ سکتے ہیں ہرگز نہیں۔آیت نمبر ۱۶۴ - هُمْ دَرَجت۔یعنی انبیاء اور مامور جو ترقی اور عمل کے لئے سیڑھیں ہیں قرب الہی حاصل کرنے کے لئے یا انبیاء بڑے درجہ والے ذی عزت ہیں۔آیت نمبر ۱۶۵ - لَقَدْ مَنَّ الله۔اس آیت سے یہ بات ظاہر ہے کہ کسی قوم میں خدا تعالیٰ کا نبی ورسول بھیجنا یہ اس کا بڑا احسان ہے جس احسان کو خدا تعالیٰ جتا رہا ہے اس میں نبی کا کام بھی بتایا گیا ہے یہی کام ان کے خلفاء کا بھی فرض ہے۔