اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 146
لن تنالوا ٤ ۱۴۶ ال عمران ۳ الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنْ بَعْدِ مَا آرىكُمْ مَّا خلاف کیا تم نے رسول کے حکم میں بعد اُس کے کہ تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَّنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَ مِنْكُمْ اللہ تم کو دکھا چکا تھا جو چاہتے تھے۔تم میں سے بعض تو دنیا چاہتے تھے اور بعض آخرت چاہتے مَّنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ تھے پھر تم کو اللہ نے دشمنوں سے پھیر دیا تا کہ تمہارا عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ امتحان لے اور بے شک بے شک اُس نے تمہیں وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ معاف کر دیا اور اللہ بڑا فضل والا ہے مومنوں پر۔اذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلُونَ عَلَى اَحَدٍ ۱۵۴۔جب تم چڑھائی کر رہے تھے اور کسی کی والرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي اخْرُ بكُمْ طرف مڑکر بھی نہ دیکھتے تھے اور رسول تم کو بلا رہا تھا تمہاری پچھلی صفوں میں تو تم کو غم پر غم پہنچا تا کہ تم نہ پچھتاؤ اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہا فَأَثَابَكُمُ غَنَّا بِغَةٍ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ وَاللهُ ہے اور نہ اُس مصیبت پر جو تم کو پہنچی اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (بقیہ حاشیہ) تَنَازَعْتُم کا مطلب یہ ہے کہ بعد فتح افسر نے کہا ٹھہر و۔دوسروں نے کہا۔اب ضرورت نہیں۔شوال ۳ ہجری کا واقعہ ہے۔آیت نمبر ۱۵۴ - اِذْ تُصْعِدُون۔جب کفار بھاگے اور پہاڑ کی اوٹ میں آئے اور مسلمان ان کے پیچھے جا رہے تھے چڑھائی کئے ہوئے ، یہاں تک کہ عبداللہ بن جُبیر کے ہمراہیوں سے غائب ہوئے۔انہوں نے درہ چھوڑا۔نبی کریم علیہ نے ان چڑھائی کرنے والوں کو اپنی طرف بلایا تا کفار کو ہنکاتے ہنکاتے درہ تک نہ پہنچا دیں مگر چونکہ یہ دشمن کے پیچھے تابڑ توڑ جا رہے تھے کچھ سنتے نہ تھے انہوں نے کفار کو درہ تک پہنچا ہی دیا۔کفار نے درہ خالی دیکھ کر اس پر قبضہ کیا اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔پتھروں اور تیروں کی بارش برسائی جس سے بہت سے مسلمان شہید اور زخمی ہوئے اور سید المرسلین ﷺ کو بھی زخم آئے۔یہ مصیبت اس نافرمانی کا کفارہ ہوا جب عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے درہ چھوڑا اور چڑھائی کرنے والے رسول کی آواز کے شنوانہ ہوئے۔مَا قُتِلْنَا ههُنَا - مَا قُتِلْنَا دیکھنے کے قابل ہے کیونکہ مقتول تو بول ہی نہیں سکتے ضمیر میں غائب کی ہوں یا متکلم کی یا حاضر کی اکثر مثیل پر بھی دلالت کرتی ہیں اصل پر ہی ان کا حصر نہیں۔متکلم کی تو مثال ہو چکی حاضر کی دیکھو۔وَاِذْ قُلْتُمْ يَمُوسى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصُّعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (البقرة: ۵۶) وغیرہ۔