اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 144
لن تنالوا ٤ ۱۴۴ ال عمران ۳ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللهَ شَيْئًا پھرے گا تو وہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا اور قریب ہی اللہ جزا دے گا شکر گزار بندوں کو۔وَسَيَجْزِى اللَّهُ الشَّكِرِينَ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ ۱۴۶ نہیں ہے کسی جی کے لئے مرنا مگر ساتھ كِتبًا وَجَلًا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا اذن اللہ کے۔یہ لکھا ہے وقت مقرر کیا گیا۔اور جو کوئی دنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اس کو دنیا میں سے نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ دیں گے اور جو آخرت کا بدلہ چاہے گا تو ہم اس نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّكِرِينَ کو وہاں سے دیں گے اور قریب ہی جزا دیں گے شکر گزاروں کو۔وَكَأَيِّنْ مِنْ نَّبِي قُتَلَ مَعَهُ رِبْيُّونَ ۱۴۷۔اور بہت سے نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ ہو کر بہت سے امام سردار عامہ مومنین نے لڑائی کی كَثِيرُ فَمَا وَهَنُوْا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي تو وہ سُست نہ ہوئے بسبب اُس مصیبت کے جو سَبِيْلِ اللهِ وَمَا ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَكَانُوا پہنچی ان کو اللہ کی راہ میں اور نہ ضعف دکھایا اور نہ وَاللهُ يُحِبُّ الصُّبِرِينَ ذلیل ہی ہوئے اور اللہ پسند کرتا ہے صابروں کو۔وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا ۱۴۸۔اور اُن کا قول کچھ نہیں تھا مگر ( یہ ) ہی کہ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا اے ہمارے رب! ہماری کمزوریاں ڈھانپ (بقیہ حاشیہ) خَلَتْ کی طرف نہیں جیسا اعراب ابو البقاء میں لکھا ہے اس آیت سے حضرت مسیح و جملہ رُسل کی وفات ثابت ہے۔اگر آ نحضرت عملے سے پہلے رُسل میں جو آنحضرت ﷺ سے اقرب ہے یعنی حضرت علہ مسیح وہی فوت شدہ نہ ہوں تو پھر اس آیت کا اعتبار بلا استثناء اٹھ جاتا ہے اور قرآن میں استثناء کہیں نہیں جس سے حضرت مسیح مستشنیٰ سمجھے جائیں۔آیت نمبر ۱۴۶ - وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا یعنی دنیا میں کوشش کرنے والا اکثر دنیا میں کامیاب ہو جاتا ہے۔آیت نمبر ۱۴۷ - وَمَا اسْتَكَانُوا اسْتَكَانُوا، كَوُن سے مشتق ہے اور سکون سے اسے مشتق قرار دینا غلطی ہے۔اس کے معنی بے دست و پا ہونا۔فروتنی کرنی۔موجودہ حالت سے خلاف اور حالت کو چاہنا۔