اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 137 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 137

لن تنالوا ٤ ۱۳۷ ال عمران ۳ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ غضب میں اور لگا دی گئی اُن پر مسکنت یہ اس الْمَسْكَنَةُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ لئے کہ وہ اللہ کے نشانات کے منکر اور حق پوشی کرتے اور ناحق تمام انبیاء سے لڑتے ہیں۔بایتِ اللهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقِّ یہ دلیریمیں اس لئے کیں کہ انہوں نے نافرمانی ذلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ اختیار کی اور وہ حد بندیوں سے آگے بڑھ گئے۔لَيْسُوا سَوَاءَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ أُمَّةً ۱۱۴۔وہ سب یہود برابر نہیں ہیں اہل کتاب میں سے ایک جماعت معلم خیر بھی ہے سیدھی سادھی پڑھتی رہتی ہے آیات اللہ رات کے حصوں میں اور وہ فرمانبرداری کرتے ہیں۔قَابِمَةٌ يَتْلُونَ آيَتِ اللهِ أَنَاءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ ۱۱۵۔ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ کے اور یوم آخر بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کے اور نیک کاموں کا حکم کرتے ہیں اور بُرے کاموں سے روکتے ہیں اور جلدی کرتے ہیں نیک وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرُتِ ۖ وَأُولَئِكَ مِنَ کاموں میں یہی لوگ سنوار والوں میں سے ہیں۔الصلِحِينَ وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ ١١٦۔اگر وہ کچھ بھی نیکی سے کریں تو اُس کی ۱۱۶۔ناقدری ہرگز نہ کی جائے گی اور اللہ خوب جانتا وَاللهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ سر ہے متقیوں کو۔(بقیہ حاشیہ ) ماتحت ہو گئے تو صاحب سلطنت ہو سکتے ہیں۔یہ ایما ہے اور تنبیہ اہلِ اسلام کو کہ تم ایسے نہ ہو جانا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ (البقرة : ١٥٠) - الْمَسْكَنَةُ۔یعنی اب حکومت کے لئے ہر گز ہاتھ پاؤں نہ ہلا سکیں گے۔ذلیل رعایا ہو کر رہیں گے۔آیت نمبر ۱۱۵- يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ۔اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ اور آخرت کا ایمان کافی ہے ملائکہ، رُسُل ، کُتب کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کا ماننا یہ ہے کہ وقت کے رسول کا حکم مانے جیسا پارہ ۶ رکوع ا(النساء: ۱۵۳) سے ظاہر ہے اور آخرت کا ماننا کتاب کے ماننے کو لازم ہے۔کتاب اور رسل کے ماننے سے فرشتوں کا ماننا لازم آتا ہے۔پس یہ وہم غلط ہے کہ اسلام کے باہر بھی نجات ہے۔