اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 128 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 128

تلك الرسل ٣ ۱۲۸ ال عمران ۳ بِالْكِتَبِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتُبِ وَمَا هُوَ ہیں اپنی زبان کتاب پڑھتے وقت تا کہ تم سمجھو کہ وہ مِنَ الْكِتَبِ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ کتاب ہی سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے یہاں سے ہے وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ وَيَقُوْلُوْنَ عَلَى حالانکہ وہ اللہ کے یہاں سے نہیں (ہاں) وہ اللہ اللهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ پر جھوٹ بولتے ہیں اور وہ جانتے بھی نہیں۔وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ مَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللهُ الْكِتَبَ ۸۰ کسی بشر کو نہیں چاہئے کہ اللہ تو اس کو کتاب اور دانائی اور پیغمبری عنایت فرمائے ، پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ تم میرے بندے بن جاؤ اللہ سے كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللهِ وَلَكِن الگ ہوکر ( بلکہ وہ تو یہی کہے گا) کہ بن جاؤ حكمًا كُوْنُوْا رَبَّنِينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلَّمُونَ عِلْمًا فِقُها۔پاک لوگ اللہ والے اس وجہ سے کہ الْكِتَبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ تم کتاب پڑھاتے رہتے ہو اور پڑھتے رہتے ہو۔وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلَيْكَةَ ا۔اور وہ تم سے یہ بھی نہ کہے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنالو بھلا کیا وہ تم کو (بقيه حاشیه) ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ (الانعام: ۹۲) کہ اللہ کہہ کر یعنی اللہ منوا کر ان کو چھوڑ دے۔حالانکہ قُلِ الله جواب ہے مَنْ اَنْزَلَ الْكِتَبَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى (الانعام : ۹۲) کے سوال کا قرآن کے ماقبل کو بالائے طاق رکھا اور اپنا مدعا آیت کے ایک حصہ کو کاٹ کر ثابت کیا ہے۔یہ تفسیر بالرائے کی مثال ہے۔نیازمند نے حضرت مسیح موعود علیہ آلفُ الْفِ تَحِيَّةٍ وَسَلَامٌ سے اس حدیث کے معنی پوچھے ہیں مَنْ فَسَّرَ الْقُرْآنَ بِرَأْ بِهِ فَاصَابَ فَقَدْ أَخْطَاً حضور نے فرمایا کہ جو بات خدا اور رسول کے منشاء کے خلاف ہوگی وہ تفسیر بالرائے ہے چنانچہ یہ شعر تفسیر بالرائے کا مجسم نمونہ ہے لَا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ دِينُهُم بخاطر است و از امر یاد ماند كُلُوا وَاشْرَبُوا مرا شاعر کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں انسان کے لئے دو طرح کی باتیں ہیں۔اوامر و نواہی پس نوا ہی میں سے تو میں نے لَا تَقْرَبُوا الصَّلوۃ والی آیت لے لی ہے اور اوامر میں سے كُلُوا وَاشْرَبُوا گویا ایک قسم کی تضحیک کلام الہی کی کی گئی ہے نعوذ باللہ اور اس قسم کی بات تفسیر بالرائے ہوتی ہے۔يَقُوْلُوْنَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ۔یعنی اللہ نے کسی کا مال کھا جانے کا زبر دستی حکم نہیں دیا۔