اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 127
تلك الرسل ٣ ۱۲۷ ال عمران ۳ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّينَ سَبِيلٌ وَ يَقُولُونَ عَلَى جب تک کہ تو ان کے سر پر کھڑا رہے یہ حالت اللهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ اُن کی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کہا اُمیوں کا مال کھا جانے میں ہم پر کوئی الزام نہیں اور ( یہ بات ) جھوٹ بولتے ہیں اللہ پر اور وہ جانتے بوجھتے ہیں۔بَلَى مَنْ اَوْ فِى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللَّهَ ۷۔ہاں جو پورا کرے اپنا اقرار اور اللہ کوسپر بنائے تو بے شک اللہ متقیوں کا دوست ہے۔يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ۸۔جو لوگ لیتے ہیں اپنے اقرار اور قسموں ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَيْكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي کے بدلے تھوڑا سا دنیا کا فائدہ تو یہی لوگ ہیں جن کا کچھ حصہ نہیں آخرت میں اور ان سے اللہ الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ بات بھی تو نہیں کرے گا ( محبت کی ) اور نہ ان کی إلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ طرف دیکھے گا ( نظر شفقت سے ) قیامت کے دن اور نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے عَذَابٌ أَلِيم لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے۔وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا تَلُونَ الْسِنَتَهُمْ 9۔اور انہیں میں کا ایک گروہ ہے جو مڑوڑتے ۷۹۔آیت نمبر ۷۹۔وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا۔(تفسیر بالرائے سے کیا مراد ہے؟) یہود میں یہ عادت تھی کہ توریت کو اس کے حقیقی مطلب کے خلاف لوگوں کے بہکانے کے لئے اپنی رائے کی تابع کرتے اور ایسی کوشش کرتے کہ اس مدعائے باطل کو الفاظ کتاب سے ثابت کر دیں جیسا علمائے حال مسیح کی حیات کے اثبات میں ایسی کوشش کرتے ہیں۔تفسیر بیان کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسی تفسیر بیان کی جائے جو کہ قرآن کی کسی آیت کے خلاف نہ ہو نہ کسی حدیث صحیح کے خلاف ہو نہ قواعد عربیہ اور لغت کے خلاف ہو جو اس کے خلاف پر جرات کرے گا اس نے تفسیر بالرائے کی گویا تَقَوُّل عَلَى الله کیا۔ایسے لوگ ایک مطلب پہلے اپنے دل میں بنا لیتے پھر اس کو قرآن کی کسی آیت سے ثابت کرنا چاہتے پھر قرآن کو موڑ تو ڑ کر اس مطلب میں ڈھال لاتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے دل میں یہ خیال کرلے کہ مسلمان بنانے کے لئے صرف اللہ کو منوادینا کافی ہے۔اور کسی عقیدہ کی اسلام میں داخل کرنے کے لئے ضرورت نہیں اور اس خیال باطل کو وہ یوں ثابت کرے قُلِ اللهُ