اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1325
وَ مِنْ شَرِّ النَّقْتُتِ فِي الْعُقَدِة وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَةً ۱۳۲۵ الناس ١١٤ جس وقت اس کی تاریکی پھیل جائے (مجھے بچا)۔۵۔اور گر ہوں میں دم پھونکنے والیوں کے شر سے۔لے۔اور ہر ایک حاسد کے حسد کی برائی سے (اللہ رب الفلق مجھے بچائے ) جب وہ حسد کرے۔سُوْرَةُ النَّاسِ مَدَنِيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ سَبْعُ آيَاتٍ وَّ رُكُوعٌ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم اس دعا کو بابرکت اللہ کے نام کی مدد سے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ) مَلِكِ النَّاسِ 3 الهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ پڑھتے ہیں جس نے رحمانیت سے ہمارے لئے دعائیں مقدر کر رکھی تھیں اور عمل کے بعد ہمیں اس کے نتائج سے مالا مال فرمائے گا۔۲۔کہہ دے میں لوگوں کے رب کا آسرا لیتا ہوں۔۔لوگوں کے بادشاہ کی پناہ لیتا ہوں۔۴۔لوگوں کے برحق و سچے معبود کی حفاظت میں آنا چاہتا ہوں۔۵۔شیطان چھپنے والے کے شر سے۔۔الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ )۔جو لوگوں کے مرکز قومی اور سینوں میں مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ JRO- ۳۹ وسوسے ڈالتا ہے۔ے۔وہ بڑے آدمیوں میں سے ہو یا غریب آدمیوں میں سے جن ہو یا آدمی (اے اللہ بدنام نہ کرتا پھرے وہ وسواس ڈال کر خناس)۔ے یعنی کمزور بے اعتبار مرد عورتوں کی باتوں سے جن سے دلوں میں بیچ اور گرہ پڑ جاتی ہے بیچا۔لگائی بجھائی کرنے والے کی شرارت سے بچا۔آیت نمبر ۲ - بِرَبِّ النَّاسِ۔انسان اور سالک کی تین حالتیں۔بچہ اور مبتدی جو رَبّ کے لئے موزوں ہے۔مَلِكِ النَّاسِ جو جوان اور ابن الوقت سے متعلق ہے۔الهِ النَّاسِ جو بڑھے اور صوفی صافی اور ابوالوقت سے متعلق ہے۔اسی طرح پہلا درجہ نفس امارہ کا ہے۔دوسرا لَوَّامَه کا۔تیسرا مُطْمَئِنَّہ کا ہے۔آیت نمبر ۵ - خناس - کہہ کر چُھپ جانے والا۔لگائی بجھائی کرنے والا۔خفیہ فتنہ پرداز۔پوشیدہ حاسد۔