اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 1318 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1318

عم ٣٠ ۱۳۱۸ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ مَكَّيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ أَرْبَعُ آيَاتٍ وَ رُكُوع الكوثر ١٠٨ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔اُس بابرکت اللہ کے نام سے جس نے فیض بے منت اور بے انتہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلے سے جاری فرما رکھے ہیں اور عملی نتیجے بھی بے حد دیتا ہے۔۲۔ہم نے تجھے سب کچھ دیا ( بہت کچھ دیا خیر کثیر دی)۔إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَة فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْن ۳۔تو عبادت کر شکر یہ میں تیرے رب کی اور إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُة قربانی کر۔۴۔البتہ تیرا دشمن ہی ابتر اور بےنسلا ہے۔تمھید۔اس سورہ شریف میں آنحضرت ﷺ کونماز اور قربانی کا حکم ہوا ہے مگر ز کوۃ کا حکم نہیں ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت علیہ کبھی اپنے پاس مال جمع نہیں کرتے تھے۔آیت نمبر ۲۔الكَوْثَرَ۔کثرت سے نکلا ہے اور اس کے معنے ہیں بہت ساری چیز ، بہت زیادہ اور جنت کی ایک نہر کا نام ہے اور خیر کثیر کو بھی کوثر کہتے ہیں۔وہ نہر بھی خیر کثیر میں سے ہے اور بعض ائمہ سلف نے قرآن شریف سے بھی مراد لی ہے اور آپ کی پیشین گوئیوں اور کچی دعاؤں کا ظہور اور درود شریف کا پڑھنا یہ تمام تیرہ سو سال سے متبعین تا قیامت پڑھے اور پڑھتے رہتے ہیں اور پڑھتے رہیں گے۔على هذا آپ کی دیگر نیک تقلید جولوگوں کو حاصل ہوئی اور ہوگی خیر کثیر ہی ہے۔آیت نمبر ۳ - وَانْحَرْ - تمام قومی کو خدا کے کام میں لگا دینا۔آیت نمبر ۴ - الابتَر۔تو تو ایماندار صدیقین اور شہداء اور صالحین اور انبیاء یعنی مُنْعَمُ عَلَیہ کا حکمی باپ ہے کیونکہ وَاَزْوَاجُةَ أَمَّتُهُمْ (الاحزاب : ) تو ابتر ثابت نہ ہوا۔ظاہری یا جسمانی بیٹے کا محتاج نہیں کیونکہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيَّن ( الاحزاب: ۳۱) تو وہ خاتم النبیین مصدق پیغمبران اور نبی گر ہے اور سلسلہ نبوت کا سالار اور ابوالانبیاء اولین و آخرین کا سردار یعنی سید المرسلین ہے ابتر کیسا۔