اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 1317
عم ٣٠ ۱۳۱۷ سُوْرَةُ الْمَاعُوُن مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَمَانِيَ آيَاتٍ وَّ رُكُوعٌ الماعون ١٠٧ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔اللہ کے نام کی برکت سے پڑھنا شروع کرتا ہوں جس نے اوّل سے قریش کو مالا مال کر رکھا تھا اور عمل کرنے والوں کو نتیجہ دینے والا ہے۔ارَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ۲۔کیا تو نے اس کو نہیں دیکھا جو جزا اور سزا اور طریق حق اور قیامت کو جھٹلاتا ہے۔فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيمَن ۳۔اور وہ ہے بھی ایسا جو یتیم کو دھکے دیتا۔وَلَا يَحُضُّ عَلى طَعَامِ الْمِسْكِينِ 6 ۴۔بے کس فقیر کو کھانا کھلانے کی رغبت فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ) نہیں دلاتا۔۵۔ان نمازیوں پر بھی افسوس ہے۔الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۔جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں ( ٹھیک ادا الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ) وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُونَ ۳۳ نہیں کرتے )۔ے۔جو دکھاوا کرتے ہیں۔۔اور برتاؤ کی چیزوں کو عاریت دینے سے روکتے ہیں۔تمہید۔یہ سورۃ لا یلف کی تائید میں ہے کہ جب کھانا اور امن دیا ہے تو تکذیب بِالدین، یتیم کو دھکے دینا مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہ دینا، نماز نہ پڑھنا،سستی کرنا وغیرہ بہت بُرا کام ہے۔آیت نمبر ۲ - يُكَذِّبُ - مکذب وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہ کرے اور اس کی مناہی سے پرہیز نہ کرے۔بالدین۔دین سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب اور عقاب ہے جو کہ انسان کو اس کے اعمال پر ملتا ہے۔آیت نمبر ۵۔فَوَيْلٌ۔اس وادی کا نام ہے جو دوزخیوں کی پیپ سے بہہ کر نکلے گی۔آیت نمبر ۶۔ساتھوں کے اندار میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو نمازوں کے اوقات میں تا خیر کرتے ہیں۔آیت نمبر ۸ - اَلْمَاعُونَ۔سے مراد طاعت۔زکوۃ اور صدقہ مفروضہ ہے اور ایسی متاع کو بھی کہتے ہیں جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مانگنے پر بھی دے دیتے ہیں جیسا کہ دیکھی اور ڈول ، کلہاڑی اور ایسی اشیاء اور نیز ماعُون تھوڑی چھوٹی اور ادنی ھے کو کہتے ہیں جو ایک دوسرے کو مانگنے سے استعمال کے واسطے دی جاوے اور دینے والے کا ہرج نہ ہو اور لینے والے کو فائدہ ہو جاوے۔